ایران احتجاجی مظاہروں پر قابو پانے میں کامیاب‘ ملک میں امن و سکون قائم ‘صورتحال مکمل قابو میں ہے‘ہمارے عزم کو بمباری سے نہیں توڑا جا سکتا:وزیر خارجہ عباس عراقچی
ایران میں ہلاکتوں کا سلسلہ رک گیا ‘ اب گرفتار مظاہرین کو پھانسیاں نہیں ہوں گی‘ ایران کا عمل دیکھیں اور جانچیں گے، ہمیں معتبر ذرائع سے اچھا بیان ملا ہے:ٹرمپ کی میڈیا سے گفتگو
ایرانی میڈیا نے جلائو گھیرائوا میں ملوث فسادیوں کی مزید ویڈیوز جاری کردیں‘، یورپی ممالک کی اپنے شہریوں کو ایران سے فوری نکلنے کی ہدایت،برطانوی سفیرکو واپس بلالیا گیا
تہران،واشنگٹن (آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک )ایرانی حکومت احتجاجی مظاہروں پر قابو پانے میں کامیاب ہوگئی،ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق 24 گھنٹوں میں ایران کے کسی شہر سے بے امنی کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا ،ایران نے اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کرنے کے بعد دوبارہ کھول دیں،ایرانی میڈیا نے جلائو گھیرائوا میں ملوث فسادیوں کی مزید ویڈیوز جاری کردیں۔۔عالمی میڈیارپورٹس کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ نے امریکی میڈیا کو انٹرویو میں بتایا کہ ملک میں امن و سکون قائم ہے اور صورتحال مکمل قابو میں ہے۔ انہوں نے پیغام دیا کہ جون جیسی غلطی دوبارہ نہ دہرائے ورنہ وہی نتیجہ نکلے گا جو پہلے نکلا تھا۔ ہمارے عزم کو بمباری سے نہیں توڑا جا سکتا۔ایرانی وزیرخارجہ نے دعوی کیا کہ مظاہروں میں موجود عناصر کو بیرون ملک سے کنٹرول کیا جارہا تھا، کچھ مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر گولیاں چلائیں، داعش طرز کی دہشتگردانہ کارروائیاں کی گئیں۔ایرانی وزیر انصاف امین حسین رحیمی نے کہا ہے کہ 8 سے 10 جنوری کے دوران ملک میں احتجاج نہیں ہوا بلکہ یہ مکمل خانہ جنگی تھی۔ایرانی وزیر امین حسین رحیمی نے کابینہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے 8 سے 10 جنوری کے دوران گرفتار کیے گئے افراد کو مجرم قرار دیا۔ ادھرایرانی میڈیا نے جلا ئو گھیرا ئو میں ملوث فسادیوں کی مزید ویڈیوز جاری کردیں۔۔ ایران میں سکیورٹی صورتحال کے سبب امریکا کے بعد اسپین، پولینڈ اور اٹلی نے اپنے شہریوں کو ایران فوری چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ برطانیہ نے ایران سے اپنے تمام سفارتی عملے کو ملک سے باہر نکال لیا جبکہ ایران سے برطانوی سفیر کو بھی واپس بلا لیا گیا۔دریں اثناء امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے ایران میں ہلاکتوں کا سلسلہ رک گیا ہے اور اب گرفتار مظاہرین کو پھانسیاں بھی نہیں ہوں گی۔اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہا ایران میں پھانسیوں کا کوئی منصوبہ نہیں، معلومات بہت اہم ذرائع سے موصول ہوئی ہیں، ا?ج بہت سی پھانسیوں کا پروگرام تھا لیکن اب وہ نہیں ہوں گی۔صحافی نے سوال کیا کہ کیا ایران کے خلاف کارروائی اب خارج از امکان ہے؟ اس پر صدر ٹرمپ کا کہنا تھا ایران کا عمل دیکھیں اور جانچیں گے، ہمیں معتبر ذرائع سے اچھا بیان ملا ہے۔ڈ ٹرمپ نے شاہِ ایران کے بیٹے رضا پہلوی کی ایران میں مقبولیت اور قیادت کی اہلیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اچھے انسان تو دکھائی دیتے ہیں، مگر واضح نہیں ہے کہ وہ ایران کے اندر عوامی حمایت حاصل کر پائیں گے یا نہیں۔انہوں نے کہا کسی بھی ملک میں کوئی بھی حکومت گر سکتی ہے اور ایران میں بھی حالات ایک دلچسپ موڑ پر پہنچ چکے ہیں۔ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ اس مرحلے پر رضا پہلوی کی مکمل حمایت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ رضا پہلوی بظاہر اچھے اور مہذب شخص ہیں، مگر یہ کہنا مشکل ہے کہ انہیں اپنے ملک میں قبول کیا جائے گا یا نہیں۔