متنازعہ افراد کو پروگرام کا حصہ نہ بنایاجائے،اختلافی موضوعات سے گریزکیاجائے
علما اور قومی پیغام امن کمیٹی کا اجلاس،میڈیااداروں،اینکرز،خطباکیلئے ضابطہ اخلاق جاری
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)لاہور میں مختلف مکاتب فکر کے علما ، مذہبی جماعتوں کے قائدین اور قومی پیغام امن کمیٹی کے اجلاس کے بعد پاکستان کے تمام میڈیا اداروں، اینکرز، خطبا اور مقررین کیلئے رمضان المبارک کے دوران ضابطہ اخلاق جاری کر دیا گیا ،جس کا مقصد مقدس مہینے میں دینی تقدس، سماجی امن اور قومی اتحاد کو یقینی بناناہے۔لاہو ر میں ہونیوالے اجلاس کی صدارت حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کی،مولانا محمد اسلم صدیقی، مولانا عمر فاروق، مفتی فلک شیر، مولانا مبشر رحیمی، مولانا محمد اشفاق پتافی ، مولانا عزیز اکبر قاسمی، مولانا سعد اللہ شفیق، مولانا نعمان حامد، مولانا عبد الباسط، مولانا ابراہیم حنفی، حافظ احتشام الحق آزاد، قاری فیصل امین، قاری ساجد اور دیگر بھی اجلاس میں شریک تھے۔ضابطہ اخلاق کے مطابق رمضان المبارک میں الیکٹرانک میڈیا پر تمام پروگرامز اور مذہبی اجتماعات میں مقررین اور اینکرز اس بات کو اجاگر کریں کہ اسلام اختلاف کے باوجود امن، برداشت اور مکالمے کا درس دیتا ہے، تشدد یا تصادم کا نہیں۔علما ، مشائخ اور مذہبی رہنما عوام کو درست اور غلط نظریات کا فرق سمجھائیں اور کسی فرد یا گروہ کو کافر قرار دینا ریاست کا اختیار ہے۔ پاکستان کے غیر مسلم شہریوں کو اپنے مذہب کے مطابق عبادت اور مذہبی رسومات ادا کرنے کے مکمل حقوق حاصل ہیں اور پروگرامز میں یہ اصول واضح طور پر پیش کئے جائیں۔ تمام مذہبی شخصیات، ذاکرین اور خطبا پر لازم ہے کہ وہ امت کو جوڑنے، نفرت کم کرنے اور معاشرتی امن کے فروغ میں کردار ادا کریں۔اختلافی موضوعات جیسے تراویح کی رکعات یا سحر و افطار کے اوقات پر غیر ضروری بحث سے گریز کیا جائے اور کسی بھی پروگرام، خطاب یا گفتگو میں ایسا مواد شامل نہ کیا جائے جو فرقہ وارانہ نفرت یا عوامی جذبات کو بھڑکائے۔ انبیا ، صحابہ، خلفا ئے راشدین اور اہل بیت کے احترام کو مقدم رکھا جائے اور کسی بھی مذہبی شخصیت، مسلک یا عقیدے کے خلاف طنزیہ یا اشتعال انگیز گفتگو ناقابل قبول ہوگی۔اینکرز، مقررین یا مہمان کسی فرد یا گروہ کے ایمان پر فیصلہ صادر نہیں کر سکتے اور غیر مسلم شہریوں کے آئینی، مذہبی یا سماجی حقوق کو محدود یا مشکوک بنانے والی گفتگو منع ہے۔ ایسے واعظین یا مقررین جو ماضی میں نفرت انگیزی یا سماجی اختلاف کا سبب بن چکے ہوں، انہیں پروگرام میں شامل نہ کیا جائے اور سیاسی جماعتوں یا شخصیات کے حوالے سے ایسی گفتگو جو عوام میں نفرت یا انتشار پیدا کرے ممنوع ہے۔