پاکستان میں ہر شہری کی ڈیجیٹل شناخت بنانے کے لیے قانون سازی کا بل آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
وزیرِ مملکت شزہ فاطمہ خواجہ بل پیش کریں گی، جس کا مقصد پاکستان کو ڈیجیٹل قوم میں تبدیل کرنا، ای گورننس کو فعال کرنا، اور معیشت کو ڈیجیٹائز کرنا ہے۔بل کے مطابق، حکومت دو نئی باڈیز تشکیل دے گی: نیشنل ڈیجیٹل کمیشن (این ڈی سی) جس کی سربراہی وزیراعظم کریں گے، اور پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی، جس کی قیادت صنعت کے ماہرین کریں گے۔ ان باڈیز کا مقصد ڈیجیٹل شناخت کے ذریعے فرد کی صحت، اثاثوں اور دیگر سماجی اشاریوں کا ڈیٹا جمع کرنا ہے۔بل کی رو سے ہر شہری کے لیے ڈیجیٹل شناخت بنائی جائے گی، جو ان کے شناختی کارڈ، لینڈ ریکارڈ، پیدائشی سرٹیفکیٹس اور صحت کے ریکارڈ تک رسائی کو بہتر بنائے گی۔ اس اقدام سے سرکاری محکموں کی کارکردگی میں بہتری آنا متوقع ہے، اور خدمات کو بہتر بنانے کے لیے ہدف پر مبنی منصوبے دیے جائیں گے۔