موٹرسائیکل چالان میں ایک ہزار روپے کمی‘7500 دیہات میں شہر جیسی سہولتیں دی جائیں گی مریم نواز

رکشے کا چالان 3 سے  کم کر کے ایک ہزار کر دیا‘ سنگین خلاف ورزی پر 2 ہزار جرمانہ ہو گا‘ کار اور جیپ کا چالان بھی 5 ہزار سے کم کرکے 3 ہزار  کر دیا گیا
2 ہزار سی سی وہیکلز کا کم سے کم جرمانہ 2 ہزار ‘ زیادہ سے زیادہ 10 ہزار ہو گا، منی ٹرک، کوسٹرز، چھوٹی مسافر وین  کا جرمانہ 20 ہزار سے 7 ہزار کر دیا گیا
 مثالی گائو ں منصوبہ فیز ٹو کی منظوری‘ دیہات میں گندے پانی کے جوہڑوں کی  صفائی 30 جون تک مکمل کی جائے،اگست تک سیپٹک ٹینکس کی تعمیر مکمل  کی جائے:وزیراعلی کی  اجلاس میں ہدایات
لاہور(سپیشل رپورٹر )پنجاب میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانوں میں کمی کرنے کی تیاری کرلی گئی۔وزیر اعلی پنجاب نے ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب کی بھجوائی سمری منظور کر لی، جبکہ جرمانوں میں کمی کی سمری پنجاب اسمبلی اجلاس میں پیش کی جائے گی۔ سمری کے مطابق موٹرسائیکل کا چالان 2 ہزار سے کم کر کے 1 ہزار روپے کر دیا گیا ہے، رکشے کا چالان 3 سے 1 ہزار کر دیا، جبکہ سنگین خلاف ورزی پر 2 ہزار ہو گا۔دوسری جانب کار اور جیپ کا چالان 5 ہزار سے کم کرکے 3 ہزار روپے کر دیا گیا، تاہم موٹرسائیکل، رکشے اور کار میں اوور سپیڈنگ کے جرمانوں کو برقرار رکھا گیا ہے، اور 2 ہزار سی سی اور دیگر لگژری وہیکلز کا جرمانہ 20 ہزار سے کم کر کے 10 ہزار کر دیا گیا ہے۔سمری کے مطابق 2 ہزار سی سی وہیکلز کا کم سے کم جرمانہ 2 ہزار اور زیادہ سے زیادہ 10 ہزار ہو گا، مزدا، کوسٹرز، چھوٹی مسافر وین لائیٹ وہیکلز کا جرمانہ 20 ہزار سے 7 ہزار کر دیا گیا، جبکہ ٹرک، بسوں اور دیگر ہیوی وہیکلز کا جرمانہ 20 ہزار سے کم کر کے 10 ہزار کر دیا گیا۔علاوہ ازیں، لائیٹ اور ہیوی وہیکلز کی دیگر خلاف ورزیوں پر بھی 10 ہزار روپے کے جرمانہ کم کئے گئے۔دریں اثناء  وزیر اعلی  مریم نواز نے مثالی گائو ں منصوبے کے دوسرے فیز کی اصولی منظوری دے دی۔ وزیراعلی پنجاب کی زیر صدارت اجلاس میں پنجاب کے دیہی علاقوں کی بہتری سے متعلق مثالی گائو ں اور صاف پانی منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ مثالی گائو ں منصوبے کے دوسرے مرحلے کے لئے  مزید 7500 دیہات کو شامل کرنے کی اصولی منظوری دی گئی ہے، جبکہ پہلے مرحلے میں 485 دیہات پر کام جاری ہے۔ حکام کے مطابق منصوبے کے تحت دیہات میں واٹر سپلائی، سولر سسٹم ٹیوب ویلز، نکاسی آب کے نظام اور گندے پانی کے تالابوں کی صفائی شامل ہے۔ اجلاس میں ہدایت کی گئی کہ دیہات میں گندے پانی کے تالابوں(چھپڑ)  کی صفائی 30 جون تک مکمل کی جائے، جبکہ 31 اگست تک سیپٹک ٹینکس کی تعمیر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سیپٹک ٹینکس سے صاف ہونے والا پانی آبپاشی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔مزید بتایا گیا کہ مثالی گاں پراجیکٹ کے پہلے مرحلے پر 59 ارب روپے سے زائد لاگت آئے گی۔ منصوبے کی نگرانی کے لیے ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرانے اور ہر گاں کی پہلے اور بعد کی ویڈیوز پیش کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔اجلاس میں خراب واٹر فلٹریشن پلانٹس کی فوری مرمت اور بحالی، اور آلودہ علاقوں میں ترجیحی بنیادوں پر صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔ اس سلسلے میں شکایات کے ازالے کے لیے ہیلپ لائن 1336 بھی قائم کی گئی ہے۔اجلاس کے دوران خوشاب اور چشتیاں میں بوٹلنگ پلانٹس کی تکمیل اور راجن پور میں واٹر سپلائی سکیم کو 15 مئی تک مکمل کرنے کی ہدایات بھی جاری کی گئیں۔