غزہ پر اسرائیل کے حملوں کے درمیان امریکہ نے کلسٹر بم اور جدید ہتھیار تل ابیب بھیج دیے

غزہ پر اسرائیل کے حملوں کے درمیان امریکہ نے کلسٹر بم اور جدید ہتھیار تل ابیب بھیج دیے

امریکہ نے حالیہ برسوں میں اسرائیل کو جدید جنگی ساز و سامان کی فراہمی میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جس میں کلسٹر بم، MK-84 بم، ہیل فائر میزائلز، بلڈوزرز اور دیگر دفاعی آلات شامل ہیں۔

 یہ اقدامات اسرائیل کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کیے گئے ہیں، تاہم ان پر عالمی سطح پر شدید تنقید بھی کی جا رہی ہے۔

اسلحہ کی فراہمی کے معاہدے:

مارچ 2025: امریکہ نے اسرائیل کو 3 ارب ڈالر مالیت کے اسلحہ اور بلڈوزرز کی فروخت کی منظوری دی۔ اس معاہدے میں 2.4 ارب ڈالر کے بم، کٹس اور دیگر ہتھیار شامل ہیں، جبکہ 295 ملین ڈالر کے بلڈوزرز بھی شامل ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ معاہدہ اسرائیل کی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے۔ ​
فروری 2025: امریکہ نے اسرائیل کو 7.4 ارب ڈالر مالیت کے جدید ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دی، جس میں بم، گائیڈنس کٹس، فیوزز اور ہیل فائر میزائل شامل ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ساز و سامان اسرائیل کو موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے میں مدد دے گا۔
مارچ 2024: امریکہ نے اسرائیل کو 1.9 ارب ڈالر مالیت کے اسلحہ کی فروخت کی منظوری دی، جس میں 1800 MK-84 بم اور 500 MK-82 بم شامل ہیں۔ یہ اسلحہ غزہ میں ممکنہ فوجی کارروائیوں کے لیے فراہم کیا گیا تھا۔ 
بین الاقوامی ردعمل:

اسلحہ کی یہ فراہمی بین الاقوامی سطح پر تشویش کا باعث بنی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور بعض امریکی قانون سازوں نے ان معاہدوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے اور فلسطینیوں کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں مزید بڑھ سکتی ہیں۔

نتیجہ:

امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو جدید جنگی ساز و سامان کی فراہمی ایک طرف اسرائیل کی دفاعی صلاحیتوں کو مستحکم کرنے کا باعث بن رہی ہے، تو دوسری طرف عالمی سطح پر اس پر تشویش اور تنقید کا سامنا ہے۔ یہ صورتحال بین الاقوامی تعلقات اور خطے کی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔​