انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اسلامی دنیا کے لیے ایک اہم پیغام ہے، جس کے مثبت اثرات مستقبل میں سامنے آئیں گے۔
ترکیہ کے صوبے سامسون میں نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے اردوان نے کہا کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مل کر ایک اہم قدم اٹھایا ہے اور اس حوالے سے مثبت پیش رفت جاری ہے۔ترک صدر کا کہنا تھا کہ ترکیہ اسلامی دنیا کو درپیش مشکلات پر قابو پانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے اور خطے میں جاری بحرانوں کے حل کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔اردوان نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ وہاں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق صرف ہرمز ہی نہیں بلکہ خلیج کے کئی حصوں میں بھی سنگین نوعیت کے مسائل موجود ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے اگست میں مکہ دفاعی معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کرنے اور اجتماعی دفاع کے اصول پر اتفاق کیا گیا ہے۔ترکیہ کے مطابق مکہ دفاعی اتحاد کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں بلکہ علاقائی امن، استحکام اور مشترکہ دفاعی تعاون کے لیے قائم کیا گیا ہے، جبکہ مستقبل میں دیگر دوست ممالک کے لیے بھی اتحاد میں شمولیت کی گنجائش رکھی گئی ہے۔