عمان/ریاض: اردن، سعودی عرب اور الجزائر نے کولمبیا کی جانب سے مغربی یروشلم میں سفارت خانہ کھولنے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور متعلقہ عالمی قراردادوں کے منافی قرار دیا ہے۔
تینوں ممالک کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات یروشلم کی قانونی اور تاریخی حیثیت کو متاثر کرتے ہیں۔اردن کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کولمبیا کے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یروشلم کی قانونی حیثیت یا اس کی موجودہ شناخت تبدیل کرنے کی کوششیں ناقابلِ قبول ہیں۔ وزارت نے زور دیا کہ شہر کی حیثیت سے متعلق یک طرفہ فیصلے بین الاقوامی قانون کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔
آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر زور
اردن کی وزارت خارجہ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں منصفانہ اور جامع امن کے قیام کا راستہ ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام سے ہو کر گزرتا ہے، جس کی سرحدیں 4 جون 1967 سے پہلے کی پوزیشن کے مطابق ہوں اور مشرقی یروشلم اس کا دارالحکومت ہو۔اردن طویل عرصے سے فلسطینی ریاست کے قیام اور یروشلم کی حیثیت کے تحفظ کی حمایت کرتا آیا ہے۔ اس مؤقف کے مطابق، شہر کے مستقبل سے متعلق اقدامات بین الاقوامی قوانین اور فلسطینی عوام کے حقوق کو مدنظر رکھ کر کیے جانے چاہییں۔
سعودی عرب کی جانب سے بھی مذمت
سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے بھی کولمبیا کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون اور متعلقہ عالمی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ سعودی مؤقف کے مطابق، یروشلم کی قانونی حیثیت کو متاثر کرنے والے اقدامات خطے میں امن کی کوششوں اور فلسطینی مسئلے کے منصفانہ حل کے امکانات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
یروشلم کی حیثیت پر عالمی اختلافات
یروشلم اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازعے کا ایک اہم ترین مسئلہ ہے۔ مشرقی یروشلم کی حیثیت اور مستقبل فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق مذاکرات میں مرکزی اہمیت رکھتے ہیں، جبکہ شہر میں سفارتی مشنز کے قیام کے فیصلے بین الاقوامی سطح پر سیاسی اور قانونی بحث کا باعث بنتے رہے ہیں۔اردن، سعودی عرب اور الجزائر کی مذمت سے واضح ہوتا ہے کہ کولمبیا کے اس اقدام پر عرب ممالک کو تحفظات ہیں۔ تینوں ممالک نے یروشلم کی قانونی و تاریخی حیثیت کے احترام اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت پر زور دیا ہے۔