ہائیکورٹ نے برادرِ نسبتی کے قتل میں سزائے موت پانے والا ملزم بری کردیا
دو رکنی بینچ نے شواہد غیرمعتبر قرار دیتے ہوئے فیصلہ کالعدم قرار دیدیا
لاہور (خصوصی رپورٹ) لاہور ہائیکورٹ نے جائیداد کے تنازع پر برادرِ نسبتی کے قتل میں سزائے موت پانے والے مجرم شاہ نواز کو بری کر دیا۔ عدالت نے سیشن کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے قرار دیا کہ مقدمے کے شواہد غیرمعتبر اور ناکافی ہیں۔جسٹس شہرام سرور چوہدری اور جسٹس سردار اکبر علی ڈوگر پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ سنایا۔ مجرم شاہ نواز کے خلاف تھانہ روجھانہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 2021ء میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں اس پر اپنے برادر نسبتی کو جائیداد کے تنازع پر قتل کرنے کا الزام تھا۔وکیلِ صفائی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ گواہوں کی موقع پر موجودگی ثابت نہیں ہوتی، پوسٹ مارٹم رپورٹ تاخیر سے پیش کی گئی اور ٹھوس شواہد کے بغیر ٹرائل کورٹ نے سزائے موت سنائی۔ سرکاری وکیل نے اپیل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس تفتیش، گواہوں کے بیانات اور میڈیکل رپورٹ کے مطابق ملزم قصوروار ہے، اس لیے سزا برقرار رکھی جائے۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ گواہوں کی موجودگی کے شواہد ناقابلِ اعتماد ہیں اور استغاثہ ملزم کا جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا، لہٰذا سیشن کورٹ کا فیصلہ کالعدم کرتے ہوئے ملزم شاہ نواز کو بری کیا جاتا ہے۔