فلسطینی رہنما اور سابق وزیرِ خارجہ ناصر القدوہ نے کہا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی میں بدعنوانی کے خاتمے اور صدر محمود عباس کی جماعت فتح میں بنیادی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
ان کے مطابق عوام کا اعتماد بحال کرنا پہلا اور سب سے اہم قدم ہے، کیونکہ اعتماد کے بغیر کوئی منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ناصر القدوہ نے واضح طور پر کہا:"ہم نے عوام کا اعتماد کھو دیا ہے، اور جب تک اسے واپس نہیں لاتے، کوئی بھی نظام یا منصوبہ دیرپا نہیں رہ سکتا۔"یاد رہے کہ ناصر القدوہ کو 2021 میں فتح پارٹی سے نکال دیا گیا تھا، جب انہوں نے اپنی آزاد انتخابی فہرست تشکیل دی تھی، جس پر صدر محمود عباس نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن منسوخ کر دیا تھا۔ تاہم حال ہی میں صدر عباس نے انہیں عام معافی دے کر دوبارہ جماعت میں شامل کر لیا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خان یونس میں پیدا ہونے والے ناصر القدوہ کے عرب ممالک سے قریبی تعلقات اور حماس سے روابط انہیں غزہ کی آئندہ حکومت میں ایک اہم کردار دلا سکتے ہیں۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد غزہ میں ایک بین الاقوامی زیرِ نگرانی تکنیکی حکومت قائم کی جائے گی، جس کے تحت نئی فلسطینی پولیس فورس تعینات ہوگی۔
القدوہ کے مطابق:
"حماس کو اپنی انتظامی اور عسکری طاقت ایک نئے فلسطینی ادارے کے سپرد کرنی چاہیے، تاہم انہیں سیاسی کردار ادا کرنے کی اجازت بھی دی جانی چاہیے۔"انہوں نے مزید کہا کہ حماس کے کارکنوں کو یقین دہانی کرائی جانی چاہیے کہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی، اور انہیں سیاسی عمل میں حصہ لینے کا موقع دیا جائے گا۔ناصر القدوہ نے تجویز پیش کی کہ غزہ کے لیے ایک "کونسل آف کمشنرز" قائم کی جائے جو فلسطینیوں کے زیرِ انتظام ہو، مگر اس پر بین الاقوامی نگرانی بھی قابلِ قبول ہو۔ ان کا مؤقف تھا کہ غزہ فلسطینیوں کے ہاتھ میں رہنا چاہیے اور وہاں انتخابات کا انعقاد ناگزیر ہے۔انہوں نے تنبیہ کی کہ فلسطینی اداروں میں کرپشن خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جس کا خاتمہ کیے بغیر کوئی بھی نیا نظام کامیاب نہیں ہو سکتا۔فلسطینی تجزیہ کار ہانی المصری نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ناصر القدوہ کا کردار یقیناً اہم ہو سکتا ہے، تاہم فلسطینی دھڑوں کے درمیان اتفاقِ رائے کے بغیر کوئی فرد اکیلا کامیاب نہیں ہو سکتا۔