ہر کوئی اپنے بارے میں سوچ رہا ہے، آئندہ نسلوں کے مستقبل کی فکر نہیں لاہور ہائی کورٹ

محکموں کی سموگ ذمہ داری پر ہائیکورٹ کا سخت اظہارِ برہمی‘عدالت نے اداروں کے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے کے رویئے کو ناقابل قبول قرار دیا
لاہور (آن لائن) لاہور ہائیکورٹ میں سموگ کے تدارک سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے سرکاری محکموں کی جانب سے ایک دوسرے پر ذمہ داری منتقل کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایک ادارہ آ کر کہتا ہے کہ معاملہ دوسرے کے سپرد کر دیا ہے، یہ تو ذمہ داریاں ایک دوسرے پر ڈالنے والی بات ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ ہر کوئی صرف اپنے بارے میں سوچ رہا ہے، اپنی نسلوں کے مستقبل کے لیے کوئی فکر نظر نہیں آ رہی۔ ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے بچوں کے مستقبل کو بہتر بنانے کا سوئچ ہی آف ہو گیا ہے۔عدالت نے غالب مارکیٹ پارک میں جاری تعمیراتی کام کے خلاف جاری حکمِ امتناعی میں توسیع کرتے ہوئے پی ایچ اے کو معاملے کا تفصیلی جائزہ لینے کی ہدایت کر دی۔ اسی دوران عدالت نے شہر کے خالی مقامات پر کوڑا کرکٹ پھینکنے کے خلاف بھی متعلقہ محکموں سے جواب طلب کر لیا۔سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کینٹ بیکری کے قریب برگد کے درخت کاٹنے سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی اور بتایا کہ کنٹونمنٹ بورڈ نے درخت کے جھکاؤ کے باعث اجازت لے کر اسے کاٹا۔ عدالتی کمیشن کے ممبر کمال حیدر نے بھی اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی۔ماحولیاتی اتھارٹی نے عدالت کو بتایا کہ سموگ کنٹرول کے لیے 45 افراد ای موشن سرٹیفیکیشن کے لیے تعینات کر دیے گئے ہیں، جبکہ دوسری طرف کمیشن کے ایک ممبر نے نشاندہی کی کہ اتھارٹی نے صرف دس اہلکار تعینات کیے ہیں