دیکھیے گا پنکی کا یہ برینڈ نیم ہی اس کا پھندا بنے گا، کراچی پولیس چیف

دیکھیے گا پنکی کا یہ برینڈ نیم ہی اس کا پھندا بنے گا، کراچی پولیس چیف

ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے ایک پریس کانفرنس میں تفصیل سے بتایا ہے کہ 12 مئی کو کراچی پولیس نے ایک اہم کارروائی انجام دی ہے جس کے نتیجے میں ملزمہ پنکی کو گرفتار کیا گیا۔

اس کارروائی کا مقصد منشیات کے کاروبار کو روکنا اور منظم نیٹ ورک کو بے نقاب کرنا تھا۔ پولیس کے مطابق، اس کارروائی کے دوران ڈیڑھ کلو کوکین اور 7 کلو گرام کیمیکل برآمد ہوا، جو منشیات کی تیاری اور ترسیل کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ، ملزمہ پنکی کے قبضے سے ایک پستول بھی برآمد ہوا ہے۔ پولیس کے مطابق، پنکی کا تعلق 2014 سے منشیات کے کاروبار سے ہے اور اس نے 2018 سے کراچی میں کام شروع کیا۔ اس کا فون فارنزک کروایا گیا ہے، جس سے 869 نمبر نکلے ہیں جن میں 132 کراچی کے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس کا نیٹ ورک ملک بھر میں پھیل چکا ہے اور یہ منشیات کی ترسیل کے لیے مختلف نمبرز اور سہولت کاروں کا استعمال کرتی تھی۔ ملزمہ کے خلاف اب تک 20 مقدمات درج ہو چکے ہیں، جن میں سے 6 مقدمات ختم ہو چکے ہیں۔ باقی کیسز نیٹ ورک کے خلاف ہیں، جن میں پنکی کا نام نہیں ہے۔ تفتیشی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور ملزمہ کے سہولت کاروں کی تلاش جاری ہے۔ بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی لی گئی ہیں، جن سے معلوم ہوا ہے کہ اس نے تین کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز کی ہیں۔ یہ منشیات بیرون ملک سے آتی تھیں، اور ملزمہ پنجاب میں بھی موجود تھی۔ 
آزاد خان کا کہنا ہے کہ کیس کی تفتیش صرف کراچی تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ملک بھر میں پھیل چکی ہے، اور اس میں افریقہ کے 6 لوگ بھی ملوث ہیں۔ ایف آئی اے اور سائبر کرائم سے بھی رابطہ کر لیا گیا ہے تاکہ ملزمہ کے دیگر روابط اور مالی لین دین کا سراغ لگایا جا سکے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کو بھی تسلیم کیا، مگر کہا کہ پولیس محنت سے کام کر رہی ہے اور کردار کشی سے بچنا ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کیس حساس ہے اور اس میں بہت سے لوگ شامل ہیں، جنہیں جلد گرفتار کیا جائے گا۔ آزاد خان نے یہ بھی بتایا کہ ملزمہ پنکی کو لاہور سے پکڑنا مشکل تھا، مگر آخر کار کراچی میں اسے گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ہر ملوث فرد کے خلاف کارروائی کرے گی، اور ہر ادارہ پولیس کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ کیس پولیس کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے اور پولیس اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھا رہی ہے۔