چین نے زنگنان کے علاقوں کے نام چینی رکھنے کو خودمختاری کا حق قرار دے دیا

چین نے زنگنان کے علاقوں کے نام چینی رکھنے کو خودمختاری کا حق قرار دے دیا

چین کی حکومت نے زنگنان کے علاقوں کو چینی نام دینے کو اپنی خود مختاری کا حصہ قرار دیا ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ زنگنان تاریخی، جغرافیائی اور انتظامی طور پر چین کا حصہ ہے اور ان علاقوں کے نام تبدیل کرنا چین کے اندرونی امور میں شامل ہے۔اس اقدام پر بھارت نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے اور اسے مسترد کر دیا ہے۔ بھارت زنگنان کو اروناچل پردیش کا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ چین اسے جنوبی تبت کا علاقہ سمجھتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس سرحدی تنازعے کی وجہ سے کشیدگی پائی جاتی ہے اور زنگنان کے ناموں پر چینی فیصلے نے اس کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

یہ مسئلہ بھارت اور چین کے درمیان طویل عرصے سے جاری سرحدی تنازعات میں سے ایک ہے اور دونوں ملک اس خطے پر اپنا اپنا دعویٰ کرتے ہیں۔ چین کی طرف سے زنگنان کے مقامات کو چینی نام دینا، اپنے دعوے کو مضبوط کرنے کی کوشش سمجھا جا رہا ہے۔ بھارت کا موقف ہے کہ یہ علاقہ اس کا حصہ ہے اور چین کی یہ حرکت اس کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔

چین اور بھارت کے مابین اس سرحدی تنازعے کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات اکثر کشیدہ رہتے ہیں اور اس قسم کے اقدامات سے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ عالمی برادری بھی اس مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتی ہے تاکہ خطے میں امن و استحکام برقرار رکھا جا سکے۔