ٹرمپ کی سمندر کا نام ’بحرِ ٹرمپ‘ رکھنے کی تجویز

ٹرمپ کی سمندر کا نام ’بحرِ ٹرمپ‘ رکھنے کی تجویز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر جغرافیائی مقامات کے نام تبدیل کرنے سے متعلق بیان دیتے ہوئے بحرِ اوقیانوس یا بحرالکاہل میں سے کسی ایک کا نام ’’بحرِ ٹرمپ‘‘ رکھنے کی تجویز پیش کردی۔

ان کا کہنا ہے کہ امریکا کے پاس خلیج اور جھیل تو موجود ہیں، اب اسے ایک سمندر بھی چاہیے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بات ریاست ٹینیسی کے شہر کلارکس وِل میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر انہوں نے سمندر کے لیے ’’Ocean of the Americas‘‘ یعنی ’’امریکاز کا سمندر‘‘ کا متبادل نام بھی تجویز کیا۔ٹرمپ کے اس بیان کو جغرافیائی مقامات کے نام تبدیل کرنے سے متعلق ان کے سابقہ مؤقف کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ان کی تجویز نے ایک بار پھر امریکی صدر کی جانب سے مقامات کے ناموں میں تبدیلی کے معاملے کو زیرِ بحث لے آیا ہے۔

تاہم واضح رہے کہ بحرِ اوقیانوس یا بحرالکاہل کا نام تبدیل کرنے کے حوالے سے ٹرمپ کی یہ تجویز فی الحال ایک بیان تک محدود ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق انہوں نے کسی سمندر کا نام تبدیل کرنے کے لیے کوئی باضابطہ انتظامی حکم جاری نہیں کیا۔بحرِ اوقیانوس اور بحرالکاہل دنیا کے بڑے سمندروں میں شمار ہوتے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر ان کے نام طویل عرصے سے رائج ہیں۔ کسی بڑے سمندر کے نام میں تبدیلی کا معاملہ محض ایک بیان سے آگے بڑھ کر بین الاقوامی جغرافیائی ناموں اور متعلقہ اداروں کے درمیان مشاورت کا تقاضا کر سکتا ہے۔