9بنکر بسٹر بموں سے حماس رہنمائوں کو نشانہ بنایا گیا ،یورپی ہسپتال کے نیچے زیر زمین کمانڈ اینڈ کنٹرول کمپلیکس میں تھے،اسرائیلی فوج کا دعویٰ
غزہ پٹی میں امداد کی تقسیم کا اسرائیلی منصوبہ مکروہ ہے،سربراہ اقوام متحدہ امدادی امور، نیتن یاہو کی پالیسیاں شرمناک ،،5لاکھ افراد بھوک کا شکار ہیں، فرانسیسی صدر
غزہ؍نیویارک؍پیرس (آئی این پی ) جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس پر اسرائیل کے بد ترین حملے میں28 فلسطینی شہید ہوگئے۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے خان یونس کے یورپی ہسپتال کے احاطہ میں 9بنکر بسٹر بم پھینکے گئے، بم پھٹنے سے کئی مقامات پر زمین پھٹ گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیلی حملے میں اب تک 28فلسطینی شہید جبکہ 70افراد زخمی بھی ہوئے۔اسرائیل کی جانب سے زخمیوں کو نکالنے والوں پر بھی بمباری کی گئی، بم حملوں کے باعث ہسپتال کے قریب کھڑی بس زمین میں دھنس گئی۔ترجمان اسرائیلی فوج کے مطابق خان یونس میں حملے میں حماس کے رہنمائوں کو نشانہ بنایا گیا ، حماس رہنما ہسپتال کے نیچے زیر زمین کمانڈ اینڈ کنٹرول کمپلیکس میں تھے۔دوسری جانب فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے یحییٰ سنوار کے بھائی محمد سنوار کو قتل کرنے کی کوشش کی ہے۔ادھراقوام متحدہ امدادی امور کے سربراہ ٹام فلیچرنے کہا ہے کہ غزہ پٹی میں امداد کی تقسیم کا اسرائیلی منصوبہ مکروہ منصوبہ ہے۔ غزہ میں امداد کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ٹام فلیچر نے کہاکہ غزہ میں امداد کی رسائی میں اسرائیل رکاوٹ ہے۔10ہفتے سے جنگ زدہ فلسطینی علاقے میں خوراک،ادویات و دیگر اشیاء نہیں پہنچیں، بروقت اقدامات کرکے لاکھوں فلسطینیوں کو بچاسکتے ہیں۔دوسری جانب فرانسیسی صدر میکرون نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی وزیراعظم کی پالیسی شرمناک ہے۔غزہ میں 5لاکھ افرادبھوک کاشکارہیں،یورپی ممالک کو اسرائیل پرپابندیوں میں اضافے پر غورکرنا چاہیے۔فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے فلسطینیوں پر مظالم پر اسرائیلی وزیراعظم پر شدید تنقید کرتے ہوئے غزہ کی صورت حال کو انسانی بحران قراردیا اور کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی وزیر اعظم کی پالیسیاں شرمناک ہیں۔