کوئٹہ کے علی گوہر حوصلے اور کامیابی کی روشن مثال بن گئے

کوئٹہ کے علی گوہر حوصلے اور کامیابی کی روشن مثال بن گئے

کوئٹہ: بچپن میں پتنگ بازی کے دوران کرنٹ لگنے سے دونوں بازو گنوانے والے نوجوان علی گوہر آج عزم و ہمت کی ایک روشن مثال بن چکے ہیں۔

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے علی گوہر نہ صرف اپنے پیروں سے خوبصورت خاکے اور تصاویر بنانے میں مہارت رکھتے ہیں بلکہ وہ جدید ڈیجیٹل شعبوں جیسے ویب ڈویلپمنٹ، گرافک ڈیزائننگ اور ویڈیو ایڈیٹنگ میں بھی مہارت حاصل کر چکے ہیں۔علی گوہر کے مطابق حادثے سے پہلے ان کا رجحان آرٹ کی طرف تھا، تاہم وہ اس میں زیادہ کامیاب نہیں تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ “جب ہاتھ تھے تو ڈرائنگ اچھی نہیں ہوتی تھی، لیکن بازو گنوانے کے بعد جب پیروں سے خاکے بنانے شروع کیے تو میرا فن نکھر گیا۔”انہوں نے بتایا کہ حادثے کے بعد وہ شدید ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار ہو گئے تھے، تاہم ان کے اہل خانہ نے ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کی اور انہیں زندگی میں آگے بڑھنے کا عزم دیا۔ اسی حوصلہ افزائی نے انہیں دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کیا اور وہ آرٹ کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل مہارتوں کی طرف بھی متوجہ ہوئے۔

آج علی گوہر اپنے پیروں سے نہ صرف پیچیدہ ڈرائنگز تیار کرتے ہیں بلکہ جدید سافٹ ویئرز کے ذریعے گرافک ڈیزائن اور ویڈیو ایڈیٹنگ جیسے کام بھی انجام دیتے ہیں، جو ان کی محنت اور لگن کا واضح ثبوت ہے۔انہوں نے نوجوانوں کے لیے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی حالت میں مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق بلوچستان کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں اور وہ محنت کے ذریعے نہ صرف ملک بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کر سکتے ہیں۔علی گوہر کی کہانی عزم، حوصلے اور خود اعتمادی کی ایک ایسی مثال ہے جو معذوری کو کمزوری کے بجائے طاقت میں بدلنے کا درس دیتی ہے۔