پاکستانی شوبز انڈسٹری کی مایہ ناز اداکارہ بشریٰ انصاری نے ٹی وی انٹرویوز اور پوڈکاسٹ کلچر پر شدید تنقید کی ہے۔
انہوں نے یوٹیوب پر نئی ویڈیو میں کہا کہ اینکرز سینئر فنکاروں کو مدعو کر کے ان کے پرانے گڑھے مردے اکھاڑتے ہیں تاکہ نیا ردِعمل اور زیادہ ویوز حاصل کر سکیں۔اداکارہ نے بالواسطہ طور پر سینئر ڈرامہ نگار خلیل الرحمٰن قمر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج کل لفظ 'نفرت' کا استعمال بہت عام ہو گیا ہے، اور لوگ اسے اکثر غصے کے مترادف سمجھتے ہیں۔ بشریٰ انصاری نے اپنے تجربے کی بنیاد پر کہا کہ وہ کسی سے نفرت نہیں کر سکتیں، چاہے کسی کے رویّے سے ناپسندیدگی ہو، کیونکہ نفرت ایک سخت اور منفی جذبہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کچھ میڈیا شخصیات جھوٹ اور منفی رویّے کے باوجود بار بار پروگرامز میں مدعو کی جاتی ہیں، اور ان سے پرانے سوالات دہرائے جاتے ہیں تاکہ ویوز حاصل کیے جا سکیں۔بشریٰ نے سوال اٹھایا کہ آخر کوئی کسی سے نفرت کیسے کر سکتا ہے؟ کیا اس نے آپ کے بچے کو نقصان پہنچایا یا جائیداد چھین لی؟ غصہ آ سکتا ہے مگر نفرت ناقابل برداشت ہوتی ہے۔
ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے، جہاں شائقین اور شوبز شخصیات مختلف آراء دے رہے ہیں۔