جنوبی کوریا کی سپریم کورٹ نے بچوں میں مقبول گانے "بے بی شارک" کے کاپی رائٹ کیس میں جنوبی کورین کمپنی پنگ فانگ کے حق میں فیصلہ سنادیا۔
یہ تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب امریکی گیت نگار جاناتھن رائٹ (جانی) نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے 2019ء میں یہ گانا لکھا تھا اور یہ ان کی تخلیق ہے۔رائٹ نے کیس کو سپریم کورٹ تک پہنچایا، تاہم عدالت نے فیصلہ دیا کہ ان کا ورژن تخلیقی کام کے زمرے میں نہیں آتا کیونکہ "بے بی شارک" کے کئی ورژنز پہلے سے موجود تھے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ یہ گانا گزشتہ 15 سال سے ایک لوک گیت کی شکل میں گایا جا رہا ہے اور مختلف شکلوں میں پیش کیا گیا ہے۔رائٹ نے 2011ء میں اپنا ورژن ’ڈو ڈو ڈو ڈو ڈو ڈو‘ کے نام سے اپلوڈ کیا تھا، جس میں بچوں کو شارک سے ملتی جلتی بیٹ پر رقص کرتے دکھایا گیا تھا۔
دوسری جانب پنگ فانگ نے 2015 اور 2016 میں کارٹون شارکس کے ساتھ اپنا ورژن اپ لوڈ کیا، جو بعد میں انگریزی ڈانس ورژن میں بھی ریلیز ہوا اور عالمی سطح پر وائرل ہوگیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ رائٹ کے گانے سے پہلے بھی 2010ء میں اس کا ایک جرمن ورژن یورپ میں مقبول ہوچکا تھا۔ پنگ فانگ کا گانا وائرل ہونے کے بعد ’بے بی شارک چیلنج‘ نے عالمی شہرت حاصل کی اور بل بورڈ ہاٹ 100 چارٹ میں 32ویں نمبر تک پہنچا، جس سے 30 ملین ڈالر سے زائد کا بزنس ہوا۔ اس کے بعد ہی رائٹ نے قانونی دعویٰ دائر کیا تھا۔