قومی کرکٹ ٹیم کی ناقص کارکردگی، کھلاڑیوں کی بھاری تنخواہوں کا انکشاف

قومی کرکٹ ٹیم کی ناقص کارکردگی، کھلاڑیوں کی بھاری تنخواہوں کا انکشاف

لاہور: قومی کرکٹ ٹیم کی ناقص کارکردگی کے بعد کھلاڑیوں کے بھاری معاوضے ایک بار پھر زیر بحث آ گئے ہیں۔ پی سی بی نے اشارہ دیا ہے کہ رواں برس ممکنہ طور پر آخری بار سینٹرل کنٹریکٹ میں آئی سی سی آمدنی کا 3 فیصد حصہ دیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق 2 سال قبل طے پانے والے معاہدے کے تحت 2025-26 میں کھلاڑیوں کی ماہانہ تنخواہیں اور میچ فیس پچھلے سیزن کے برابر رہیں گی۔ البتہ پی سی بی نے ریٹینر بجٹ 37 فیصد (319 ملین روپے) بڑھا کر 1173.49 ملین روپے کر دیا ہے، جس سے مستقبل میں اضافے کے امکانات بھی ظاہر ہوتے ہیں۔کارکردگی کے لحاظ سے ٹیم نے گزشتہ عرصے میں 3 ٹیسٹ میں سے صرف ایک جیتا، 11 ون ڈے میں سے 2 اور 14 ٹی ٹوئنٹی میں سے 7 میچز میں کامیابی حاصل کی، جبکہ بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز جیسی نچلی رینک ٹیموں سے بھی شکست ہوئی۔ پاکستان اس وقت ٹی ٹوئنٹی میں آٹھویں اور ٹیسٹ و ون ڈے میں پانچویں نمبر پر ہے۔سابق چیئرمین مینجمنٹ کمیٹی کے دور میں سینئر کھلاڑیوں نے پہلی بار پی سی بی سے آئی سی سی آمدنی کا 3 فیصد حصہ لینے کا معاہدہ کرایا تھا۔ قانونی پیچیدگیوں کے باعث موجودہ انتظامیہ نے یہ سلسلہ تو ختم نہیں کیا، تاہم نئے معاہدوں میں یہ ممکنہ طور پر شامل نہیں ہوگا۔

موجودہ کنٹریکٹ کے تحت:

اے کیٹیگری کے کھلاڑی 45 لاکھ روپے ماہانہ اور آئی سی سی شیئر کے 20 لاکھ 70 ہزار روپے ملا کر 65 لاکھ 70 ہزار روپے وصول کرتے ہیں۔
بی کیٹیگری کے پلیئرز کا ماہانہ معاوضہ 45 لاکھ 52 ہزار 500 روپے ہے۔
سی کیٹیگری کے کھلاڑی 20 لاکھ 35 ہزار روپے ماہانہ لیتے ہیں۔
ڈی کیٹیگری کے پلیئرز کو 12 لاکھ 67 ہزار 500 روپے ماہانہ ملتے ہیں۔
ٹیسٹ میچ کی فیس 12 لاکھ 57 ہزار 795 روپے، ون ڈے کی 6 لاکھ 44 ہزار 620 روپے اور ٹی ٹوئنٹی کی 4 لاکھ 18 ہزار 584 روپے مقرر ہے۔