سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
ستمبر2026میں ترک انٹیلی جنس کے سربراہ ابراہیم قالن اورقطر کی قومی سلامتی کونسل سے وابستہ حمدبن خمیس الکبیسی نے کابل اور،اطلاعات کے مطابق،قندھارمیں طالبان حکومت کیاہم اہلکاروں سے ملاقاتیں کیں۔ان میں وزیرِدفاع محمدیعقوب مجاہد،وزیرِداخلہ سراج الدین حقانی اورانٹیلی جنس کے سربراہ عبدالحق وثیق شامل تھے۔ملاقاتوں کاسرکاری بیان دوطرفہ تعاون تک محدوددکھائی دیتاہے، مگرمتعددرپورٹوں میں پاکستان افغانستان تعطل کومرکزی موضوع قراردیاگیا۔رہبرِاعلی ہبت اللہ اخوندزادہ سے ملاقات کی قطعی تصدیق نہ ہونے کے باعث اس پہلو کوامکان ہی سمجھناچاہیے۔
یہ دورہ اس لیے غیرمعمولی تھاکہ وفودمیں روایتی سفارت کاروں کی بجائے سلامتی اورانٹیلی جنس کیاعلی عہدے دارشامل تھے۔ایسے وفودعموماوہاں بھی گفتگوکرتے ہیں جہاں وزارتِ خارجہ کی زبان پہنچ کررک جاتی ہے۔گویا سفارت کاری نے ریشمی دستکش پہن رکھی تھی،مگراس کے اندرسلامتی کے سخت سوال موجودتھے:ٹی ٹی پی،سرحدی حملے،فضائی کارروائیاں، باہمی ضمانتیں اوررابطے کاقابلِ عمل طریق کار،چنانچہ اس سفر کوخیرسگالی کے معمولی چراغ سے زیادہ،منجمدمکالمے کے دروازے پررکھی ہوئی ایک سنجیدہ دستک سمجھناقرینِ قیاس ہے ۔سوال یہ ہے کہ یہ قافلہ اسی وقت کیوں روانہ ہوا؟اول، دونوں پڑوسیوں کے درمیان طویل تعطل نے دہشتگردی،مہاجرین،تجارت اور سرحدی نظم کے مسائل کوبیک وقت سنگین بنا دیا تھا۔دوم،ترکیہ اورقطرنے اکتوبر2025کے دوحہ جنگ بندی اوراستنبول مذاکرات میں ثالثی کی تھی؛اس لیے ان کے پاس رابطوں کی یادداشت،دونوں جانب رسائی اورناکام مذاکرات کے اسباب کابراہِ راست تجربہ موجودتھا۔سوم، چین نے2026میں کشیدگی کم کرانے اورارومچی میں بات چیت کرانے میں کرداراداکیا،مگرکسی ایک ثالث کیلئے اس گرہ کوکھولناآسان ثابت نہ ہوا۔
چہارم،مشرقِ وسطی میں ایران امریکاتنا،یمن اورسعودی عرب کے گردبڑھتی بے یقینی،اورپاکستان ترکیہ سعودی عرب کے دفاعی بندوبست نے علاقائی سلامتی کوباہم پیوست کردیا ہے۔جب ایک خطے میں کئی شطرنجیں بیک وقت بچھی ہوں توزیرک کھلاڑی اپنے عقب کوپرسکون رکھناچاہتے ہیں۔ترکیہ کیلئے پاکستان کومغربی محاذکی نئی ذمہ داریوں اورافغان سرحد کی کشیدگی کیدرمیان پھنسادیکھنا سود مندنہیں؛قطرکیلئے مکالمے کی میزبانی اس کی دیرینہ مصالحتی شناخت کاتسلسل ہے۔یوں دورہ اچانک ضرورتھا،بے سبب نہیں۔
ابراہیم قالن کاکابل کے بعداسلام آبادآنااوروزیرِاعظم شہبازشریف،فیلڈمارشل عاصم منیر،آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک اوردیگرحکام سے ملاقاتیں کرنا سفارتی ترتیب کااہم قرینہ ہے۔یہ ترتیب بتاتی ہے کہ انقرہ محض افغان مؤقف سننے نہیں آیاتھا؛وہ پیغام لے جانے،ردِعمل جانچنے اورممکنہ مشترک زمین تلاش کرنے نکلاتھا۔تاہم اسے باضابطہ ثالثی کہناتبھی درست ہوگاجب متعلقہ حکومتیں اس کی واضح تصدیق کریں۔
دسمبر2025کے ریاض مذاکرات اوربعدازاں چین میں طویل گفت وشنیدکے باوجودعملی پیش رفت محدودرہی۔گزشتہ مہینوں میں چین، قطر،سعودی عرب،اورترکیہ کی کوششوں کاذکرملتاہے،مگرپائیدارنتیجہ سامنے نہیں آیا۔یہ ناکامیاں بے فائدہ نہیں تھیں: انھوں نے بتادیاکہ محض ملاقات کافی نہیں،بلکہ اختلاف کی تعریف بھی مشترک ہونی چاہیے۔ پاکستان سرحدپاردہشتگردی کوبنیادی مسئلہ کہتاہے؛کابل اسے پاکستان کاداخلی مسئلہ قراردیتاہے۔جب مرض کے نام ہی پراتفاق نہ ہوتودواکانسخہ کیسے ایک ہو؟قالن کی شٹل سفارت کاری اسی بنیادی اختلاف کوقابلِ مذاکرہ زبان دینے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔
افغانستان اورپاکستان کے تعلقات میں اتارچڑھانیانہیں۔1947کے بعدڈیورنڈلائن،سوویت جنگ،مہاجرین،مجاہدین،طالبان،نائن الیون اور دہشتگردی کے خلاف جنگ نے باہمی اعتمادکوباربارآزمایامگرموجودہ کشیدگی کی شدت اس وجہ سے زیادہ محسوس ہوتی ہے کہ سیاسی رابطے سکڑگئے،زمینی راستے طویل مدت سے بندیاسخت محدودرہے،تجارت گہری زوال پذیری کاشکارہوئی اورسرحدنے رگِ جاں کے بجائے دیوارکی صورت اختیار کرلی۔سرحدبندہوتی ہے توصرف ٹرک نہیں رکتے؛خاندان بچھڑتے،مریض درماندہ ہوتے ،پھل گلتے اورروزگارسوکھتے ہیں۔طورخم اورچمن محض دروازے نہیں،صدیوں کے انسانی جغرافیے کی سانسیں ہیں۔تاہم ریاست کیلئے شہریوں کی سلامتی بھی ناگزیرفریضہ ہے۔یہی وہ دو دھاری تلوارہے جس پرپالیسی کوچلناہے:سلامتی کے تقاضے نظراندازہوں توخون بہتاہے،تجارت اورآمدورفت غیرمعینہ مدت تک بندرہیں تومعاشرے اندرہی اندرزخم کھاتے ہیں۔موجودہ سرد مہری اسی عدم توازن کاحاصل ہے۔
ترکیہ اورقطرکونسبتاموزوں ثالث بنانے والی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ دونوں کے کابل کے موجودہ حکام سے رابطے ہیں اورپاکستان سے بھی گہرے تعلقات۔دوسری یہ کہ دوحہ طویل عرصہ افغان مذاکرات کامرکزرہا،جبکہ انقرہ نے ریاستی سلامتی،اسلامی دنیااورمغربی اداروںتینوں دائروں میں بیک وقت گفتگوکی صلاحیت دکھائی ہے۔تیسری خصوصیت یہ ہے کہ یہ ممالک فریقین پربراہِ راست حکم نافذ نہیں کرسکتے؛لہذاان کاسرمایہ دباؤسے زیادہ اعتماد،سہولت کاری اورضمانت سازی ہے۔مگرثالثی عصائے موسیٰ نہیں کہ ایک ضرب سے دریاشق ہوجائے۔قطراورترکیہ گزشتہ کوششوں میں جنگ بندی توکراسکے،بنیادی تنازع ختم نہ کرسکے۔ان کی کامیابی کاانحصاراس بات پرہے کہ وہ بلندآہنگ مشترکہ اعلامیے کی بجائے چھوٹے مگرقابلِ پیمائش اقدامات طے کرائیں:رابطہ افسران،واقعات کی مشترکہ تحقیق، مطلوب افرادسے متعلق شواہدکامحفوظ تبادلہ،سرحدی ہاٹ لائن،اورخلاف ورزی کی صورت میں فوری مشاورتی اجلاس۔مصالحت کادرخت تقریروں سے نہیں،مسلسل نگہداشت سے بارآورہوتاہے۔
2025کے آخرمیں ریاض میں بات چیت بے نتیجہ رہی توتوقع تھی کہ سعودی قیادت میں نیامرحلہ شروع ہوگالیکن خطہ سکون کی جھیل نہیں،باہم ملتی موجوں کاسمندرہے۔ایران اور امریکاکی کشیدگی نے خلیجی دارالحکومتوں کی ترجیحات بدلیں؛پاکستان کی افغانستان میں فضائی کارروائیوں نے کابل کیلئیخودمختاری اورقومی وقارکاسوال مزیدتیزکردیا؛سرحدی جھڑپوں نے مذاکراتی فضامیں بارودکی بوبھر دی۔یوں وہ سفارتی فصل جوصبرمانگتی تھی،حادثات کی ژالہ باری میں دب گئی۔
اس پس منظرمیں ایک اہم سبق یہ ہے کہ مذاکرات کومیدانِ جنگ کے اتارچڑھاکایرغمال نہیں بنناچاہیے۔ریاستوں کودفاع کاحق حاصل ہے مگرطاقت کاہراستعمال سیاسی قیمت بھی پیداکرتاہے۔ اسی طرح خودمختاری کا مطالبہ معتبر ہے، مگر کسی پڑوسی کے خلاف مسلح سرگرمی کی روک تھام بھی بین الاقوامی ذمہ داری ہے۔اگردونوں فریق صرف اپنے زخم دکھائیں اوردوسرے کے خوف کووہم کہیں تو تاریخ کاپہیہ وہیں گھومتارہے گا۔نئی کوشش کواسی لیے بحران سے محفوظ، مستقل اورادارہ جاتی راستہ درکارہے۔
طالبان حکام نے ترک اورقطری وفودکوبتایاکہ وہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات اورراستے کھولنے پرتیارہیں،بشرطیکہ پاکستان انھیں سیاسی مقاصدکیلئے دوبارہ بندنہ کرے۔انہوں نے یہ یقین دہانی بھی پیش کی کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، مگربالمقابل پاکستان سے بھی اپنی سرزمین افغانستان کے خلاف استعمال نہ ہونے کی ضمانت مانگی۔یہ مؤقف باہمی برابری کی زبان اختیارکرتاہے،لیکن اس کی اصل قدرعملی جانچ میں ہوگی۔ضمانت وہ سکہ ہے جس کی قیمت مہرسے نہیں،ادائیگی سے معلوم ہوتی ہے۔پاکستان یہ جانناچاہے گاکہ ٹی ٹی پی کی قیادت،نقل وحرکت، تربیت،مالیات اورابلاغ کے خلاف کون سے قابلِ تصدیق اقدامات ہوں گے۔کابل یہ پوچھے گاکہ فضائی حملے،سرحدپارتعاقب اورمخالف افغان عناصرکی سرگرمی کیسے رکے گی۔اس لیے مبہم وعدوں کی بجائے واضح تعریفیں ضروری ہیں:کون ساعمل خلاف ورزی ہوگا، شواہدکون جمع کرے گا،کتنے وقت میں جواب دیاجائے گا،اوراختلاف کی صورت میں ثالثی کون کرے گا۔یہی زبان اعتمادکوخواہش سے نظام میں بدل سکتی ہے۔
پاکستان کامسلسل مؤقف ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوافغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی،رابطہ کاری اورپناہ حاصل کرتے ہیں؛طالبان حکومت اس الزام کی تردید کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کوپاکستان کاداخلی مسئلہ کہتی ہے۔یہ اختلاف محض بیانیے کانہیں، سلامتی کے تصورکاہے۔اسلام آبادکے نزدیک سرحدپارمحفوظ ٹھکاناجنگی خطرہ ہے؛کابل کے نزدیک پاکستان اپنے داخلی سیاسی وقبائلی بحران کابوجھ افغانستان پررکھتاہے۔(جاری ہے)