1ارب ڈالر ای ایف ایف، 20کروڑ ڈالر کلائمیٹ فنانسنگ کی منظوری دی جائیگی
رقم 9دسمبر کو منتقلی کا امکان، تیسرے جائزہ کیلئے نئے بینچ مارک پر عملدر آمد لازم
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 8 دسمبر کو ہو گا جس میں پاکستان کیلئے ایکسٹنڈڈ فنڈز فیسیلیٹی قرض پروگرام کے تحت 1 ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت 20 کروڑ ڈالر کی منظوری دی جائے گی، منظوری کے بعد فوری 1.2 ارب ڈالر پاکستان کو منتقل کر دیئے جائیں گے، رقم 2 پروگراموں کے تحت منظوری ملنے پر جاری کی جائے گی۔ بورڈ کی منظوری کے بعد آئی ایم ایف کی کنٹری رپورٹ جاری کی جائے گی، تیسرے اقتصادی جائزہ کیلئے نئے سٹرکچرل بینچ مارک پر عملدر آمد کرنا ہو گا۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان گزشتہ ماہ اکتوبر کے دوران 7 ارب ڈالر کے ای ایف ایف کے دوسرے جائزہ مذاکرات مکمل ہوئے تھے اور ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فنڈ کے پہلے جائزے پر سٹاف لیول ایگریمنٹ طے پایا تھا۔ بورڈ کی منظوری ہونے سے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی رقم 9 دسمبر کو پاکستان کے اکا ئونٹ میں منتقل ہو سکتی ہے جس کے بعد دونوں پروگراموں کے تحت مجموعی ادائیگیاں تقریباً 3.3 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی، ای ایف ایف پروگرام کے تحت تقریباً 2 ارب ڈالر پہلے موصول ہو چکے ہیں۔ آئی ایم ایف ویب سائٹ پر ایگزیکٹو بورڈ شیڈول کے مطابق 8 دسمبر کو پاکستان اور صومالیہ کے لیے دو الگ الگ اجلاس ہونگے تاکہ سٹاف لیول ایگریمنٹس کی منظوری دی جا سکے۔ اب اگلے دو ہفتوں کے دوران پاکستان کو آئی ایم ایف بورڈ اجلاس سے قبل گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ رپورٹ شائع کرنا ہو گی، جو ای ایف ایف کے تحت سٹرکچرل بینچ مارک ہے۔ گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ رپورٹ پر آئی ایم ایف اور حکومت پاکستان کے درمیان متعدد بار بات چیت ہو چکی ہے اور معاشی ٹیم اس رپورٹ کے اوریجنل ڈرافٹ میں تبدیلی چاہتی ہے۔ سٹرکچرل بینچ مارک کو پورا کرنے کیلئے تین بار تاریخوںمیں تبدیلی ہوئی لیکن تاحال رپورٹ جاری نہیں کی جا سکی۔