پنجاب میں مینوئل اسلحہ لائسنس کمپیوٹرائزڈ کرنے کا عمل بند

سابقہ احکامات کالعدم ،مارچ تا نومبر کمپیوٹرائزڈ کئے لائسنس پررپورٹ طلب 
محکمہ داخلہ پنجاب نے غیر قانونی اسلحہ جمع کرانے کی مہم پربھی رپورٹ مانگ لی
لاہور (کرائم رپورٹر)پنجاب حکومت نے مینوئل اسلحہ لائسنس کی توثیق اورکمپیوٹرائزیشن کا عمل روک دیا،محکمہ داخلہ نے مینوئل اسلحہ لائسنس کے حوالے سے تمام سابقہ احکامات فوری طورپر کالعدم قرار دیدئیے ہیں۔تفصیلات کے مطابق محکمہ داخلہ نے انفرادی اور سکیورٹی کمپنیوں کے مینوئل اسلحہ لائسنس کے حوالے سے نیا حکم نامہ جاری کر دیا اور مینوئل اسلحہ لائسنس کے حوالے سے تمام سابقہ احکامات فوری طور پر کالعدم قرار دے دیئے ہیں اور تمام ڈویژنل کمشنرز اور ایڈیشنل سیکرٹری جوڈیشل سے مارچ تا نومبر کمپیوٹرائزڈ کئے گئے اسلحہ لائسنس بارے رپورٹ طلب کر لی ہے۔صوبے میں غیر قانونی اسلحہ جمع کرانے اور ڈی ویپنائزیشن مہم کیلئے رپورٹس بھی طلب کرلی گئی ہیں، پنجاب بھر کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز سے مفصل رپورٹیں طلب کی گئی ہیں، اسی طرح تمام اضلاع سے مارچ تا نومبر موصول ہونے والی درخواستوں اور جاری کردہ حکم ناموں کے بارے میں رپورٹ بھی مانگی گئی ہے۔یاد رہے کہ محکمہ داخلہ نے 2016ء میں مینوئل اسلحہ لائسنسز کی کمپیوٹرائزیشن کا عمل شروع کیا تھا اور اس کی آخری تاریخ 31 دسمبر 2020 تھی، دسمبر 2020 تک کمپیوٹرائزڈ نہ ہونے والے مینوئل اسلحہ لائسنس منسوخ کر دئیے گئے تھے۔