ایسے ہی ڈرون روسی افواج نے یوکرین کے خلاف کامیابی سے استعمال کئے ہی تھے
لندن(آئی این پی )برطانوی جریدے نے دعوی کیا ہے کہ روس نے ایران کو ایسے جدید ڈرون فراہم کرنے کی پیشکش کی جو جام نہیں کیے جاسکتے۔برطانوی جریدے کی رپورٹ کے مطابق آپٹک فائبر کے ذریعے استعمال ہونے والے یہ ڈرون خلیج فارس اور دیگر علاقوں میں امریکی اور اتحادی افواج کو نشانہ بنانے کیلئے استعمال کیے جا سکتے تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ روس کے مرکزی انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ(جی آر یو )کے تیار کردہ اس خفیہ منصوبے میں ایران کو 5 ہزار قلیل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز اور طویل فاصلے کے لئے سیٹلائٹ کی رہنمائی سے چلنے والے نظاموں کی نامعلوم تعداد فراہم کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ایسے ہی ڈرون روسی افواج نے یوکرین کے خلاف کامیابی سے استعمال کئے ہیں۔ جریدے کے مطابق حاصل ہونے والی دستاویز میں یہ واضح نہیں کہ یہ روس نے ایران کو یہ پیشکش کب کی اور اسے قبول بھی کیا گیا یا نہیں۔واضح رہے کہ خیال کیا جاتا ہے کہ ماسکو پہلے ہی خطے میں امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے میں مدد کیلئے ایران کو انٹیلی جنس فراہم کر چکا ہے۔ امریکی میڈیا بھی کئی بار دعوی کرچکا ہے کہ مشرقِ وسطی کی جنگ میں روس بالواسطہ شامل ہوکر ایران کو امریکی اہداف پر حملوں کے لئے خفیہ معلومات دے رہا ہے۔