بھارتی ریاست ہریانہ کی پولیس کو معروف گلوکار و ریپر بادشاہ کو گرفتار کرنے اور ان کا پاسپورٹ ضبط کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
یہ کارروائی ان کے حالیہ ہریانوی گانے "تاتیری" سے متعلق تنازع کے سلسلے میں کی گئی، جس کے لیے بادشاہ کو پانی پت میں اسٹیٹ کمیشن فار ویمن کے سامنے پیش ہونے کا کہا گیا تھا، مگر وہ حاضر نہیں ہوئے۔کمیشن کی چیئرپرسن ریانو بھاٹیہ نے بتایا کہ پانی پت اور پنچکولہ پولیس کو بادشاہ کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست بھر میں نوٹس جاری کیے گئے ہیں اور اگر بادشاہ سمن کو نظر انداز کرتے رہے تو ہریانہ میں ان کے شوز کی اجازت نہیں دی جائے گی۔بادشاہ کے وکیل نے بتایا کہ ان کے مؤکل پہلے ہی سوشل میڈیا پر ویڈیو پیغام کے ذریعے معذرت کر چکے ہیں اور کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا مقصد نہیں تھا۔ تاہم، کمیشن نے واضح کیا کہ بادشاہ کو ذاتی طور پر پیش ہونا لازمی ہے اور ضرورت پڑنے پر ان کا پاسپورٹ ضبط کیا جا سکتا ہے تاکہ وہ تحقیقات سے بچ کر ملک نہ چھوڑ سکیں۔
شکایت گزار سویتا آریہ کے مطابق کمیشن نے کہا تھا کہ اگر گلوکار مقررہ وقت تک پیش ہو جاتے تو معاملہ اب بھی حل ہو سکتا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق شکایت گزاروں نے کہا کہ گانے کی ویڈیو میں لڑکیاں اسکول یونیفارم پہنے ہریانہ روڈ ویز کی بس میں رقص کرتی اور قابل اعتراض اشارے کرتی دکھائی گئی ہیں۔گذشتہ ہفتے ہریانہ پولیس نے بادشاہ کے خلاف FIR درج کی تھی، اور کمیشن کی ہدایات کے مطابق کارروائی جاری ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس معاملے میں قانونی دباؤ اور تحقیقات سخت ہو سکتی ہیں۔