فرشی شلوار کا بخار، بڑے فیشن ٹرینڈ کا راج

لاہور(نیٹ نیوز) فیشن برانڈز، معروف ڈیزائنرز اور اداکارائیں سبھی اسے اپنا چکے ہیں اور سوشل میڈیا پر اس کے چرچے ہیں۔فرشی شلوار کی تاریخ مغلیہ دور سے جا ملتی ہے، جہاں یہ شاہانہ لباس کا حصہ تھی، اس کا نام فارسی لفظ فرش سے لیا گیا ہے، جس کا مطلب زمین ہے، کیونکہ یہ شلوار فرش تک جاتی ہے اور کبھی کبھار اس پر گھسٹتی بھی ہے۔ماضی میں بھی یہ ٹرینڈ کبھی کبھار مختصر مدت کے لیے واپس آتا رہا ہے، لیکن 2025ء￿  میں یہ ایک مکمل فیشن موومنٹ بن چکا ہے، تاہم کچھ لوگ اب بھی اسے ایک معین جسمانی ساخت کے لیے موزوں سمجھتے ہیں، خاص طور پر دراز قد اور دبلی پتلی خواتین کے لیے۔یہ ایک ہاٹ ٹاپک بن چکا ہے کہ فرشی شلوار کی واپسی کا سہرا کس کے سر جاتا ہے۔معروف میک اپ آرٹسٹ سارہ علی نے کہا کہ یہ ٹرینڈ اداکارہ صدف کنول کے برانڈ کی بدولت دوبارہ مقبول ہوا۔حسین ریہار کے فینز کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے منفرد اور جاندار ڈیزائنز کے ذریعے اس رجحان کو زندہ کیا۔کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ اداکارہ انمول بلوچ نے اپنے ڈرامے اقتدار میں فرشی شلوار پہن کر اس کا باقاعدہ آغاز کیا۔عائزہ خان نے تو مذاق میں کہہ دیا کہ یہ ان کا 77 واں فرشی شلوار لک ہے اور وہ اب بھی اس سے بور نہیں ہوئیں۔یہ بخار صرف خواتین تک محدود نہیں رہا بلکہ فہد مصطفیٰ بھی اس ٹرینڈ پر حیران نظر آئے۔ اپنے گیم شو میں انہوں نے شائستہ لودھی سے پوچھا کہ یہ فرشی شلوار کا کیا چکر ہے؟ کیا میں بھی پہن سکتا ہوں؟ یہ جملہ سن کر ناظرین قہقہے لگانے پر مجبور ہو گئے۔فرشی شلوار ٹرینڈ کے ساتھ سوشل میڈیا صارفین کا زبردست ردِعمل دیکھنے کو مل رہا ہے، جہاں کچھ لوگ اسے عید کا بہترین فیشن قرار دے رہے ہیں، وہیں کچھ صارفین کا خیال ہے کہ یہ زبردستی کا ٹرینڈ ہے، جو برانڈز اور ڈیزائنرز نے مصنوعی طور پر مقبول کیا ہے۔چاہے آپ حسین ریہار کے مداح ہوں، صدف کنول کو کریڈٹ دینا چاہیں، یا انمول بلوچ کو فیشن گیم چینجر مانیں، ایک بات طے ہے کہ اگر آپ نے اس عید پر فرشی شلوار نہیں پہنی، تو کیا واقعی عید منائی؟