حویلی لکھا (خصوصی رپورٹ)سلیمانکی ہیڈورکس کے زیرِ انتظام سلیمانکی ڈویڑن کی مختلف راجباہوں میں مبینہ طور پر پانی چوری کے واقعات پر چھوٹے زمینداروں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے محکمہ آبپاشی کے بعض اہلکاروں پر سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔متاثرہ زمینداروں کے مطابق نور شاہ 1، نوشاہ، ملہو شیخو سمیت مختلف راجباہوں میں بااثر زمیندار مبینہ طور پر سب انجنیئر اور ایس ڈی او کی ملی بھگت سے غیر قانونی طور پر موگھے توڑ کر ٹکیاں اور پائپ نصب کر رہے ہیں، جس کے ذریعے پانی چوری کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس عمل کے باعث نہری پانی کی منصفانہ تقسیم متاثر ہو رہی ہے اور چھوٹے کاشتکار اپنی فصلوں کو پانی نہ ملنے سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔زمینداروں نے الزام عائد کیا کہ مختلف مقامات پر فی موگہ توڑنے کے مبینہ طور پر 4 لاکھ سے 7 لاکھ روپے تک کے ریٹ مقرر ہیں، جبکہ متعلقہ حکام اس صورتحال سے چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کی قلت کے باعث ان کی فصلیں سوکھ رہی ہیں اور انہیں لاکھوں روپے کے نقصان کا خدشہ ہے۔متاثرین نے اعلیٰ حکام، سیکرٹری آبپاشی پنجاب، چیف انجینئر، کمشنر ساہیوال اور ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ سے مطالبہ کیا کہ الزامات کی شفاف تحقیقات کروا کر مبینہ طور پر ملوث اہلکاروں اور عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ نہری پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے۔دوسری جانب، اس حوالے سے محکمہ آبپاشی عملہ نے اپنا م ئوقف دینے سے لیت و لعل سے کام لیا ہے۔