تھیلیسیمیا خاموش بیماری ، جسے آگاہی سے روکا جا سکتا ہے

 مہک خالق 
صبح کے نو بج رہے ہیں۔ شہر کے ایک بڑے ہسپتال کے بچوں کے وارڈ میں غیر معمولی خاموشی ہے۔ ایک سات سالہ بچہ اپنی ماں کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑے خون کی بوتل کو خاموشی سے دیکھ رہا ہے۔ اس کی عمر کھیلنے، ہنسنے اور خواب دیکھنے کی ہے، مگر اس کی زندگی ہر دو سے تین ہفتے بعد خون کی ایک نئی بوتل کی محتاج ہے۔یہ منظر صرف ایک بچے کا نہیں، بلکہ پاکستان کے ہزاروں خاندانوں کی روزمرہ حقیقت ہے۔ ان بچوں کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ تھیلیسیمیا میجر کے ساتھ پیدا ہوئے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر کیسز کو صرف ایک سادہ سے خون کے ٹیسٹ کے ذریعے روکا جا سکتا تھا۔تھیلیسیمیا آخر ہے کیا؟
تھیلیسیمیا ایک موروثی (Inherited) خون کی بیماری ہے۔ یہ نہ چھونے سے پھیلتی ہے، نہ کھانے سے اور نہ ہی ایک دوسرے کے ساتھ رہنے سے۔ یہ صرف والدین سے بچوں میں منتقل ہونے والے جینز کی وجہ سے ہوتی ہے۔ہمارے خون میں موجود ہیموگلوبن جسم کے ہر حصے تک آکسیجن پہنچانے کا کام کرتا ہے۔ جب جسم صحت مند ہیموگلوبن نہیں بنا پاتا تو خون کے سرخ خلیے کمزور ہو کر جلد ٹوٹ جاتے ہیں۔ نتیجتاً جسم میں خون کی شدید کمی پیدا ہو جاتی ہے، مریض ہر وقت تھکن، کمزوری اور سانس پھولنے جیسی مشکلات کا شکار رہتا ہے۔تھیلیسیمیا مائنر اور میجر میں فرق تھیلیسیمیا کی دو بنیادی اقسام ہیں۔تھیلیسیمیا مائنر والے افراد عام لوگوں کی طرح زندگی گزارتے ہیں۔ وہ صحت مند دکھائی دیتے ہیں اور اکثر انہیں خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ اس بیماری کے کیریئر ہیں۔لیکن اگر دو ایسے افراد، جو دونوں تھیلیسیمیا مائنر ہوں، آپس میں شادی کریں تو ان کے بچے کے تھیلیسیمیا میجر کے ساتھ پیدا ہونے کا خطرہ موجود ہوتا ہے۔تھیلیسیمیا میجر میں بچے کا جسم صحت مند ہیموگلوبن نہیں بنا پاتا، اس لیے اسے تقریباً ہر دو سے تین ہفتے بعد خون لگوانا پڑتا ہے۔ یہی خون اس کی زندگی کا سہارا بنتا ہے۔صرف مریض نہیں، پورا خاندان متاثر ہوتا ہے تھیلیسیمیا میجر صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی اور معاشی آزمائش بھی ہے۔ہر پندرہ سے بیس دن بعد خون کا انتظام، ہسپتال کے چکر، مہنگی ادویات، ٹیسٹ اور مسلسل علاج والدین کے لیے ذہنی دباؤ اور مالی مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ہر ماں کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا بچہ دوسرے بچوں کی طرح دوڑے، کھیلے اور سکول جائے، مگر تھیلیسیمیا میجر کے بہت سے بچے اپنی زندگی کا بڑا حصہ ہسپتالوں میں گزارتے ہیں۔امید کی کرن۔۔خوش آئند بات یہ ہے کہ تھیلیسیمیا کو بڑی حد تک روکا جا سکتا ہے۔اس کا سب سے مؤثر طریقہ شادی سے پہلے تھیلیسیمیا اسکریننگ ٹیسٹ ہے۔یہ ایک عام خون کا ٹیسٹ ہے، جس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ کوئی شخص تھیلیسیمیا مائنر ہے یا نہیں۔ اگر دونوں افراد کیریئر ہوں تو وہ ڈاکٹر اور جینیاتی ماہرین کی رہنمائی سے باخبر فیصلے کر سکتے ہیں۔چند منٹ کا یہ ٹیسٹ ایک بچے کی پوری زندگی بدل سکتا ہے۔نوجوانوں کی ذمہ داری آج کے نوجوان کل کے والدین ہیں۔ اگر ہم آج ہی تھیلیسیمیا کے بارے میں 
درست معلومات حاصل کریں، اپنے خاندانوں میں اس موضوع پر بات کریں اور شادی سے پہلے اسکریننگ ٹیسٹ کو ایک ذمہ دارانہ قدم سمجھیں، تو آنے والی نسلوں کو اس بیماری سے محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ایک اجتماعی پیغام تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچوں کے لیے خون عطیہ کرنا یقیناً ایک عظیم خدمت ہے، لیکن اس سے بھی بڑی خدمت یہ ہے کہ ایسے بچوں کی پیدائش کو روکا جائے جو پوری زندگی خون کے محتاج رہیں۔
ہم سب کو مل کر یہ عہد کرنا ہوگا کہ آگاہی پھیلائیں گے، غلط فہمیوں کو دور کریں گے اور شادی سے پہلے اسکریننگ ٹیسٹ کی اہمیت کو عام کریں گے۔کیونکہ…"شادی سے پہلے صرف ایک ٹیسٹ، ایک معصوم بچے کی پوری زندگی محفوظ بنا سکتا ہے۔"