رانا عامر محمود
لوہڑی کسی مذہب اور دھرم کے بغیر علاقائی تہوار ہے جو بالخصوص بھارتی پنجاب اور پاکستانی پنجاب اور کشمیر میں منایا جاتا ہے۔ دوست احباب اور ہمسایوں کا آگ جلا کر اس کے آس پاس بیٹھنا، میٹھی چیزیں کھانا اور بانٹنا، گیت گانا اور خوشیاں منانا، یہ ہے لوہڑی کا انگ۔ جنوری کے تقریباً وسط میں 13 تاریخ کو اس تہوار کا منایا جانا سردیوں کے خاتمے اور نئے موسم کے لمبے دنوں کی آمد کی خوشی کا اعلان ہوتا ہے۔ بسنت اور بیساکھی کی طرح پنجابی کیلینڈر کا یہ بھی ایک اہم تہوار ہے اور بہت سے دوسرے تہواروں کی طرح یہ بھی موسم کے بدلنے اور فصلوں سے جڑا ہوا ہے۔ لفظ لوہڑی کے بارے میں کچھ محققین سمجھتے ہیں کہ یہ لفظ لو سے نکلا ہے جس کے معنی روشنی یا آگ کی گرمائش ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ یہ نام سنت کبیر کی بیوی لوئی کا رکھا ہوا ہے اور اسی وجہ سے مشہور ہے۔ پنجاب میں لوہڑی کے لفظ کے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ لفظ تلہوڑی کی اختراع ہے یا اس سے ہی بنا ہے کیونکہ اس تہوار میں میٹھی چیزوں کا استعمال ہوتا ہے اور زیادہ تر وہ ہی کھائی جاتی ہیں اس لیے یہ لفظ بھی اسی مناسبت سے ہے۔ پنجاب میں میٹھے گڑ اور ریوڑھیوں پر اکثر تل لگایا جاتا ہے اور کبھی دونوں کو ملا کر تلہوڑی کہا جاتا تھا، جو چھوٹا ہوتا ہوتا لوہڑی بن گیا یعنی تل اور ریوڑھی سے تلہوڑی بنا اور پھر لوہڑی۔ مطلب جو بھی ہے اس لفظ میں تقریباً مٹھاس ضرور سموئی ہوئی لگتی ہے۔ لوہڑی کی جڑیں پنجاب میں ہیں، اسی لیے اس کے ساتھ گنا، شکر، گڑ اور گچک یا ان سے بنی ہوئی چیزیں بھی جڑی ہوئی ہیں جو اس مٹی کا خاصہ ہیں۔ جنوری میں لوہڑی کے ساتھ ہی گنے کی فصل کا جشن منایا جاتا ہے اور گھروں میں سرسوں کا ساگ اور مکئی کی روٹیاں بنتی ہیں۔ اس تہوار میں انڈیا پاکستان کی تقسیم سے پہلے مشرقی اور مغربی پنجاب کے سبھی سکھ، ہندو اور مسلمان شریک ہوتے تھے۔ ایک دوسرے کے لیے پیار اور گرمجوشی کا اظہار کرتے تھے۔ اس تہوار کا آغاز کب ہوا اس کے متعلق تو حتمی طور پر معلوم نہیں ہے لیکن اس کا ذکر لوک داستانوں میں بہت آتا ہے۔ ویسے اب یہ پنجاب سے نکل کر پورے شمالی انڈیا کا تہوار بن چکا ہے۔ جب بھی لوہڑی کا ذکر آتا ہے تو اس کا تعلق ایک گیت سے جڑا ہوا ہوتا ہے اور وہ ہے کہ دلے بھٹی کا گیت:
’سندر مندریے ہو
تیرا کون وچارہ ہو
دلا بھٹی والا ہو
دْلے نے دھی ویاہی ہو
سیر شکر پائی ہو۔۔۔۔‘
اس گیت میں پنڈی بھٹیاں کے عبداللہ یعنی دلے بھٹی کے ذکر کے پیچھے ایک لوک کہانی ہے۔ شہنشاہ اکبر کا زمانہ تھا اور اس وقت کہا جاتا تھا کہ اس کے سپاہی آتے تھے اور نوجوان لڑکیوں کو اٹھا کے لے جاتے تھے، جو کہ غریب کسانوں اور اس علاقے کے مکینوں کے لیے ایک کربناک حقیقت تھی۔ اس لیے کسی کو تو اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا تھا اور جس پہلے شخص نے وہ علم بغاوت بلند کیا وہ دلا بھٹی تھا۔۔اگرچہ دلے بھٹی والے گیت میں دو بہنوں سندری اور مندری کا ہی ذکر کیا گیا ہے لیکن یہ اشارہ ہے اس وقت کی جبراً اٹھائی گئی لڑکیوں کی طرف اور جبر کے خلاف عام لوگوں کی جنگ کی طرف ہے۔ دلا بھٹی اور ان سے پہلے ان کے باپ دادا سلطنت کے باغی تصور کیے جاتے تھے، اس لیے ان کی بادشاہ کی فوج سے کسی نہ کسی طرح لڑائی رہتی ہی تھی۔ یہ بھی روایت ہے کہ جب سندری اور مندری کو مغل بادشاہ اکبر کے لوگوں نے اغوا کرنے کی کوشش کی تو دلا بھٹی نے انھیں بچایا تھا۔ بعد میں دلا بھٹی نے ان کی شادی کروائی اور پھر اس موقع پر شکر دی اور دکھایا کہ بیٹیوں کو ایسے رخصت کیا جاتا ہے۔ پنجاب کے لوک گیتوں میں دلے کے اسی عمل کا ذکر کیا جاتا ہے۔ لوہڑی سے چند روز پہلے بچے ٹولیوں کی شکل میں گھر گھر جا کر لوہڑی مانگتے ہیں۔ انہیں کہیں سے شکر، گڑ، تل اور کہیں سے ریوڑیاں، گچک یا پیسے مل جاتے ہیں۔