حماس نے ممکنہ عالمی امن فورس کے کردار کے لیے اہم شرائط رکھ دی ہیں۔
تنظیم کے مطابق بین الاقوامی فورس صرف حفاظتی بفر قائم کرنے اور جنگ بندی برقرار رکھنے تک محدود ہونی چاہیے، اور فلسطین کے داخلی، سیاسی یا سکیورٹی معاملات میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ حماس کے ترجمان بسیم نعیم نے خبردار کیا کہ غیر ملکی اہلکاروں کی مداخلت فلسطینی عوام کے لیے قابض قوتوں کے متبادل کے مترادف ہوگی۔ادھر، ترجمان دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ شہباز شریف 19 فروری کو غزہ امن بورڈ کے اجلاس میں شرکت کریں گے اور عالمی فورس کی محدود نوعیت پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔اجلاس میں فلسطین میں عبوری حکومت، حماس کے کردار، مستقل جنگ بندی اور عالمی امن فورس کی تعیناتی جیسے اہم امور زیر غور آئیں گے۔