واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کو شاید دنیا کا سب سے مہنگا سرکاری گھر بنانے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ وائٹ ہاؤس اور اس کے اطراف تعمیر و تزئین کے مختلف منصوبوں پر مجموعی لاگت 927 ملین ڈالر یعنی تقریباً ایک ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ان منصوبوں میں نیا شاندار بال روم، ہیلی پیڈ، سیاحوں کی سکیورٹی کے لیے نیا سکریننگ سینٹر، روز گارڈن میں تبدیلیاں اور لافائیٹ اسکوائر کے اطراف مختلف تعمیراتی و سکیورٹی کام شامل ہیں۔صدر ٹرمپ کے منصوبے کا سب سے نمایاں حصہ وائٹ ہاؤس کے سابق ایسٹ ونگ کی جگہ تعمیر کیا جانے والا وسیع بال روم ہے جس کی لاگت مختلف مراحل میں بڑھتی رہی ہے اور اب تقریباً 600 ملین ڈالر تک بتائی جارہی ہے۔وائٹ ہاؤس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بال روم کے لیے 400 ملین ڈالر نجی عطیات سے فراہم کیے جائیں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ منصوبہ صرف مہنگا ہی نہیں بلکہ قانونی تنازع کا شکار بھی ہے