جہیز: بیٹی کا مان یا معاشرے کا امتحان؟

 رفیع صحرائی
بیٹی کی شادی کرنا اور اسے گھر سے رخصت کرنا آسان کام نہیں ہوتا۔ بیٹی جب رخصت ہوتی ہے تو صرف ایک گھر سے دوسرے گھر نہیں جاتی، ایک پورا عہد اپنے ساتھ لے جاتی ہے۔ ماں کی دعائیں، باپ کی شفقت، بہن بھائیوں کی محبت، بچپن کی یادیں اور وہ تمام خواب جو اس کے والدین نے اس کے لیے دیکھے ہوتے ہیں، اس کے ساتھ رخصت ہوتے ہیں۔ ایسے میں اگر والدین اپنی استطاعت کے مطابق بیٹی کو کچھ سامان، کپڑے، برتن، بستر یا گھر کی ضروری اشیا دے دیں تو اسے محض ’’جہیز‘‘ کہہ کر ایک لعنت قرار دینا شاید اس پورے جذبے کے ساتھ انصاف نہیں۔ رخصت ہونے والی بیٹی نے برسوں ماں باپ اور بہن بھائیوں کی خدمت کی ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں تو مہمان کو رخصت کرتے وقت بھی تحائف دینے کی اعلیٰ روایت قائم ہے، بیٹی تو اس گھر کا حصہ ہوتی ہے۔
اصل سوال جہیز کا نہیں، جہیز کے تصور اور رویے کا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایک طرف یہ نعرہ بلند ہوتا ہے کہ ’’جہیز ایک لعنت ہے‘‘ اور دوسری طرف بعض خاندانوں میں شادی سے پہلے لڑکے والوں کی طرف سے مطالبات کی ایک طویل فہرست سامنے آ جاتی ہے۔ کہیں گاڑی ضروری ہے، کہیں فرنیچر، کہیں لاکھوں روپے نقد، کہیں زیورات اور کہیں گھر بھر کا سامان چاہیے ہوتا ہے۔ اگر لڑکی کے والدین یہ سب فراہم نہ کر سکیں تو رشتہ توڑنے یا لڑکی کو بعد میں طعنے دینے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کی جاتی۔ یہ جہیز نہیں، لالچ کا کاروبار ہے اور یقیناً اس کے خلاف آواز اٹھنی چاہیے۔
لیکن دوسری انتہا بھی درست نہیں۔ اگر ایک ماں اپنی بیٹی کے لیے برسوں پہلے سے کپڑے جوڑتی ہے، باپ اپنی محدود آمدنی میں سے تھوڑا تھوڑا بچاتا ہے، بہنیں اپنی پسند کی چیزیں قربان کرکے بہن کے لیے سامان تیار کرتی ہیں اور خاندان اپنی استطاعت کے مطابق بیٹی کو نئے گھر کے لیے کچھ ضروری اشیا دیتا ہے تو اس محبت کو ’’لعنت‘‘ قرار دینا کسی طور مناسب نہیں۔ تحفہ اور مطالبہ دو مختلف چیزیں ہیں۔ تحفہ محبت سے دیا جاتا ہے، مطالبہ لالچ سے کیا جاتا ہے۔ تحفہ دینے والے کی خوشی اس میں ہوتی ہے کہ اس کی بیٹی کے پاس نئے گھر میں ضرورت کی چند چیزیں موجود ہوں، جبکہ مطالبہ کرنے والے کی نظر سامان پر ہوتی ہے، بیٹی پر نہیں۔ یہ فرق سمجھنا بہت ضروری ہے۔
ہمارے معاشرے کا ایک اور بڑا المیہ یہ ہے کہ بہت سی بیٹیوں کو ان کا شرعی وراثتی حق نہیں دیا جاتا۔ باپ کی جائیداد تقسیم ہوتی ہے تو بیٹی سے کہا جاتا ہے کہ ’’تم تو اپنے گھر کی ہو، بھائیوں کے پاس اپنا حصہ رہنے دو‘‘ یا پھر شادی کے وقت دیا گیا سامان اس کے وراثتی حق کا متبادل بنا دیا جاتا ہے۔ یہ سراسر ناانصافی ہے۔ جہیز وراثت نہیں اور وراثت جہیز نہیں۔
اسلام نے بیٹی کو وراثت میں جو حق دیا ہے وہ کسی شادی کے اخراجات یا تحفوں سے ختم نہیں ہوتا۔ اگر والدین بیٹی کو شادی کے وقت کچھ دے رہے ہیں تو یہ ان کی محبت اور صوابدید ہے، لیکن اس کے شرعی حقِ وراثت کو ختم کرنے کا جواز نہیں۔
یہاں ہمارے معاشرے کو اپنے ضمیر کے سامنے کھڑا ہونا ہوگا۔
ایک طرف ہم بیٹی کو کہتے ہیں کہ تم ہمارے گھر کی عزت ہو، دوسری طرف جائیداد کی تقسیم کے وقت اسے اس کے حق سے محروم کر دیتے ہیں۔ پھر شادی کے وقت چند برتن، کپڑے اور فرنیچر دے کر سمجھتے ہیں کہ بیٹی کا حق ادا ہوگیا۔ یہ رویہ بدلنا ہوگا۔
جہیز کی روایت بھی ہماری معاشرتی تاریخ میں کوئی نئی چیز نہیں۔ ہمارے بزرگوں کے زمانے میں بیٹی کا جہیز محض بازار سے خریدی ہوئی اشیا کا نام نہیں تھا۔ لڑکیاں اپنے ہاتھ سے کڑھائی کرتیں، چرخہ کاتتیں، کپڑے تیار کرتیں، کھیس اور دوہرے بنواتیں اور گھریلو استعمال کی اشیا تیار کرتیں۔ یہ چیزیں ان کی محنت، ہنر اور تربیت کی علامت سمجھی جاتی تھیں۔ بابا بلھے شاہؒ کے کلام میں ’’کر کتن ول دھیان کڑے‘‘ جیسے الفاظ اسی تہذیبی ماحول کی جھلک دکھاتے ہیں۔
اس زمانے میں جہیز بیٹی کی محنت اور والدین کی محبت کا اظہار تھا، آج یہ بعض جگہ معاشی مقابلہ بن چکا ہے۔ آج ایک غریب باپ کے لیے بیٹی کی شادی کبھی کبھی زندگی کا سب سے بڑا معاشی امتحان بن جاتی ہے۔ وہ قرض لیتا ہے، زیور بیچتا ہے، زمین کا ٹکڑا فروخت کرتا ہے اور بعض اوقات برسوں قرض اتارتا رہتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ بیٹی کی شادی خوشی کا موقع ہے یا والدین کی معاشی تباہی کا؟
ہمیں یہاں ایک اجتماعی فیصلہ کرنا ہوگا کہ بیٹی کو رخصت کرنا ہے، خاندان کو نہیں بیچنا۔
شادی سادگی سے ہو سکتی ہے۔ بیٹی کو اپنی استطاعت کے مطابق چند ضروری چیزیں دی جا سکتی ہیں۔ اگر والدین کے پاس وسائل نہیں تو انہیں شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ بیٹی کی قدر اس سامان سے نہیں ہونی چاہیے جو وہ اپنے ساتھ لاتی ہے۔ اس کی اصل قدر اس کی شخصیت، تعلیم، تربیت، کردار، صلاحیت اور انسان ہونے میں ہے۔
اور لڑکے والوں کو بھی سوچنا چاہیے کہ جس گھر سے وہ بہو لانے جا رہے ہیں، وہاں کے والدین نے اسے برسوں محبت سے پالا ہے۔ اگر وہ بیٹی کو اپنے گھر کی زینت سمجھتے ہیں تو پھر اس کے ساتھ فہرست کیوں منسلک کرتے ہیں؟ بیٹی چاہیے یا اس کا جہیز ضروری ہے؟ یہ سوال ہر اس خاندان کو اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے جو شادی کو لین دین سمجھتا ہے۔
ہمیں اپنے بیٹوں کی تربیت بھی اسی انداز میں کرنا ہوگی۔ انہیں یہ سکھانا ہوگا کہ بیوی کسی خاندان کی طرف سے ملنے والا ’’مال‘‘ نہیں، ایک انسان اور شریکِ حیات ہے۔ شوہر کا مقام اس وقت بلند ہوتا ہے جب وہ اپنی بیوی کو عزت دیتا ہے، نہ کہ اس وقت جب اس کے گھر سے زیادہ سامان آتا ہے۔ اسی طرح بیٹیوں کے والدین کو بھی دوسروں کی دیکھا دیکھی اپنے اوپر بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے۔ شادی کو نمود و نمائش کا مقابلہ بنانے سے خوشی نہیں بڑھتی، مسائل ضرور بڑھتے ہیں۔ جو کچھ محبت سے اور آسانی سے دیا جا سکتا ہے، دیا جائے؛ جو استطاعت سے باہر ہو، اس کے لیے قرض اور ذلت کا راستہ اختیار نہ کیا جائے۔
ہمیں ’’کون سا جہیز آیا؟‘‘ کے بجائے ’’کیسی بیٹی آئی؟‘‘ پوچھنے والا معاشرہ بننا ہوگا۔
ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہماری بہو تعلیم یافتہ ہے یا نہیں، بااخلاق ہے یا نہیں، خاندان جوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں۔ اسی طرح داماد کے بارے میں بھی یہ سوال ہونا چاہیے کہ وہ کتنا ذمہ دار، باکردار اور اپنی بیوی کے حقوق ادا کرنے والا انسان ہے۔ بات پھر وہیں پہ آتی ہے
 جہاں سے شروع ہوئی تھی۔
جہیز بذاتِ خود لعنت نہیں؛ جہیز کے نام پر لالچ، مطالبہ، نمود و نمائش اور معاشی استحصال لعنت ہیں۔
بیٹی کو اپنی استطاعت کے مطابق تحفہ دینا والدین کی محبت ہے، لیکن اسے لازم قرار دینا ظلم ہے۔ بیٹی کو وراثت سے محروم کرکے چند چیزیں دے دینا ناانصافی ہے، مگر محبت سے دیا گیا سامان بھی چھین لینا انصاف نہیں۔
لہٰذا ہمیں جہیز کے خلاف صرف نعرہ نہیں لگانا، بلکہ اس کے گرد موجود پورے معاشرتی رویے کو بدلنا ہے۔ مطالبات ختم ہوں، لالچ ختم ہو، وراثت کی حق تلفی ختم ہو، نمود و نمائش ختم ہو اور بیٹی کو بوجھ سمجھنے کی سوچ ختم ہو۔