دو استعفے موصول ہوئے، دستخط مختلف ہیں،علی امین15 اکتوبر کو دن 3 بجے گورنر ہائوس آکر تصدیق کریں:فیصل کنڈی

علی امین گنڈا پور  دستخط مختلف، استعفوں پر اعتراض  فیصل کریم کنڈی
 پی ٹی آئی کے سہیل آفریدی ،جے یو آئی کے لطف الرحمن ،پیپلزپارٹی کے ارباب زرک ، ن لیگ کے سردار شاہجہاں وزارت اعلیٰ کے امیدوار،اسمبلی کا اجلاس صبح 10 بجے طلب ، وزیراعلیٰ کا انتخاب ایجنڈے میں شامل، استعفے کی منظوری سے پہلے انتخاب کا عمل غیر آئینی :اپوزیشن 
پشاور( مانیٹرنگ ڈیسک )گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کے استعفے پر اعتراض لگا کر علی امین کو تصدیق کیلئے 15 اکتوبر کو دن3 بجے بلا لیا ہے۔ دو استعفے موصول ہوئے، دستخط مختلف ہیں،علی امین15 اکتوبر کو دن 3 بجے گورنر ہائوس آکر تصدیق کریں،گورنر نے کہا ہے میں شہر سے باہر ہوں، 15 اکتوبر کو واپس آوں گا اور 15 اکتوبر کو دن 3 بجے علی امین گنڈاپور گورنر ہاوس آ کر اپنے استعفے کی صداقت ثابت کریںدوسری طرف خیبرپختونخوا میں نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب آج13اکتوبر کو ہونے ،صوبائی اسمبلی کا اجلاس صبح 10 بجے طلب،ایجنڈے میں وزیراعلیٰ کا انتخاب شامل ،4امیدواروں پی ٹی آئی کے سہیل آفریدی، جمعیت علمائے اسلام(ف)کے مولانا لطف الرحمن، پیپلز پارٹی کے ارباب زرک اور مسلم لیگ (ن)کے سردار شاہجہان کے وزارتِ اعلیٰ کے کیلئے کاغذات نامزدگی منظور،امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کر دی گئی، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت مقابلے کا امکان ہے۔ادھر پی ٹی آئی نے اپنے امیدوار سہیل آفریدی کی بلامقابلہ کامیابی کیلئے اے این پی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین ، مسلم لیگ ن کے رہنماء و وفاقی وزیر امیر مقام سے رابطہ کر لیا جبکہ اس نے اپنے 80 ارکان کو وزیراعلیٰ ہائوس پشاور میں پابند کر دیا۔ذرائع کے مطابق کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کیلئے اراکین کو سی ایم ہائوس میں ٹھہرایا گیا ۔دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا ابھی تک استعفیٰ منظور ہوانہ ہی کابینہ تحلیل ہوئی،اس لئے نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کا عمل غیر آئینی ہے۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے انتخاب کیلئے 4 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے، سپیکرصوبائی اسمبلی بابر سلیم نے پی ٹی آئی کے امیدوار سہیل آفریدی ، اپوزیشن کی جانب سے جے یو آئی کے مولانا لطف الرحمن، پیپلزپارٹی کے ارباب زرک اور نواز لیگ کے سردار شاہجہاں کے کاغذات نامزدگی جانچ پڑتال کی اور کاغذات منظور کر لئے ، کاغذات نامزدگی سیکرٹری خیبرپختونخوا اسمبلی کے پاس جمع کرائے گئے ، بعدازاں امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کر دی گئی ۔ اس موقع پر سہیل آفریدی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وزیراعلیٰ کا انتخاب آئین کے مطابق ہو رہا اور وہ اپنا پالیسی بیان اسمبلی فلور پر پیش کریں گے ،کسی کو باہر سے مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ مولانا عطاالرحمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں وزارتِ اعلیٰ کے انتخاب میں اپنا امیدوار کھڑا کریں گی، جو ان کا آئینی اور قانونی حق ہے۔دوسری جانب ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی سہیل آفریدی کی بلا مقابلہ کامیابی کیلئے منصوبہ بندی جاری ہیاور اس نے اپنے 80 سے زیادہ اراکین اسمبلی کو سی ایم ہائوس میں ٹھہرالیا ہے، 5 سے 10 ایم پی ایز گھروں کو جاتے ہیں اور واپس آجاتے ہیں۔ذرائع کے مطابق کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کیلئے اراکین کو سی ایم ہائوس میں ٹھہرایا گیا،ایم پی ایز پر غیر ضروری کالز اٹھانے پربھی پابندی ہے۔ جبکہ گزشتہ روز پشاور میں پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بھی وزیراعلیٰ ہائوس میں ہوا جس میں اسد قیصر، جنید اکبر ،سلمان اکرم راجہ سمیت دیگر پارٹی رہنما شریک ہوئے۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے حوالے سے لائحہ عمل تیار کیا گیا اور غیر آئینی اقدام پر احتجاج کی حکمت عملی بھی تیار کی گئی۔دریں اثنا ء سہیل آفریدی کی بلامقابلہ کامیابی کیلئے پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر خان کی زیر قیادت وفد نے گزشتہ روز مسلم لیگ ن کے رہنماء و وفاقی وزیر امیر مقام سے ان کی رہائش گاہ پر جا کر ملاقات کی۔پی ٹی آئی وفد میں اراکین قومی اسمبلی شیر علی ارباب، علی خان جدون ، ڈاکٹر امجد،سابق صوبائی وزراء شوکت یوسفزئی، مشتاق غنی اور ریاض خان، کبیر خان، ادریس خٹک، لائق خان، عرفان سلیم اور اکرام کھٹانہ بھی شامل تھے۔جنید اکبر نے کہا کہ ماضی کی طرح مل کر فیصلے کرنے کی امید پر آئے ہیں، جن مسائل سے گزر رہے ، اس سے مل کر مقابلہ کرنا ہے، اسمبلی میں واضح اکثریت پاکستان تحریک انصاف کو حاصل ہے ،موجودہ حالات میں خیبرپختونخوا مزید مشکلات اور سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہوسکتا، سہیل آفریدی کو بلامقابلہ وزیراعلی منتخب کرنا چاہتے ہیں۔وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں سے بات کریں گے، مرکزی قیادت سے مشاورت کے بعد آگاہ کریں گے۔ علاوہ ازیں جنید اکبر خان کی زیر سربراہی پی ٹی آئی وفد باچہ خان مرکزبھی گیا اور عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین سے ملاقات کی، اس موقع پر اے این پی کے جنرل سیکرٹری حسین شاہ ، عقیل شاہ، صلاح الدین، ارسلان خان، حامد طوفان اور طارق افغان بھی موجود تھے۔اس موقع پر جنید اکبر خان نے کہاکہ آج(13اکتوبر)کو ایک جمہوری عمل ہونے جارہا ہے، غیر جمہوری کرداروں کو روکنے کیلئے ہم چاہتے ہیں سہیل آفریدی کو بلامقابلہ منتخب کریں۔ جواب میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے کہاکہ کسی بھی غیر آئینی و غیر جمہوری عمل کا حصہ نہیں بنیں گے ، ہم اپنے مرکزی قیادت سے مشاورت کے بعد آگاہ کریں گے۔ جبکہ ترجمان اے این پی انجینئراحسان اللہ نے کہاہے کہ وزیراعلیٰ کے انتخاب میں حصہ نہیں لیں گے،اے این پی کسی ہارس ٹریڈنگ کا حصہ نہیں بنے گی تاہم ہماری پارٹی پی ٹی آئی کے نامزد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے حق میں بھی نہیں۔ دوسری جانب گورنر کی جانب سے علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ منظور کئے بغیر نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب پر اپوزیشن جماعتوں نے سوالات اٹھا دیئے ہیں۔ اس حوالے سے جے یو آئی ف کے پارلیمانی لیڈر اور وزیراعلیٰ کے امیدوار مولانا لطف الرحمن نے کہا ہے کہ گورنر نے وزیراعلیٰ کا ابھی تک استعفیٰ منظور نہیں کیا، اس لئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کا عمل غیرآئینی ہے تاہم امیدوار لانا ہمارا جمہوری حق ہے اور اپوزیشن متفقہ امیدوار لائے گی۔مسلم لیگ (ن )کے رکن قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا کہ وزیراعلیٰ کا استعفیٰ گورنر نے وصول کرلیا، گورنر قانون کے مطابق اسے آگے پراسس کریں گے ، اگر ایک وزیراعلیٰ کے استعفے کا عمل مکمل نہیں ہوا تو دوسرے کا انتخاب کیسے ہو سکتا ہے؟۔ دوسری جانب سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے کہا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور استعفیٰ دے چکے اور آئین کے مطابق جب کوئی وزیراعلیٰ استعفا دے دیتا ہے تو وہ استعفیٰ تصور کیا جاتا ہے۔سابق سپیکر مشتاق غنی نے بھی تائید کرتے ہوئے کہا کہ آئین میں استعفے کی منظوری یا مسترد کرنے کا کوئی تصور موجود نہیں۔ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل نے وزیراعلیٰ کے انتخاب کو آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 130 کے تحت وزیراعلیٰ کا استعفیٰ ذاتی اقدام ہے جس کیلئے کسی باضابطہ منظوری کی شرط نہیں رکھی گئی۔ اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایک موجودہ وزیراعلیٰ کے ہوتے ہوئے نیا وزیراعلیٰ منتخب کرنا غیر آئینی اور جمہوری اقدار کے منافی ہے، نہ کابینہ تحلیل ہوئی نہ ہی گورنر کی جانب سے استعفا منظور کیا گیا ، اس لئے نیا انتخاب کسی صورت آئینی حیثیت نہیں رکھتا۔