طالبان گارنٹی دیتے سرحد پار دہشت گردی نہیں ہوگی تو قرض دے دیتے‘دہلی اور کابل میں دہشت گردی ہمارے مفاد میں نہیں، حملہ ہوا تو خالی نہیں جانے دینگے
بھارت کوئی نہ کوئی بہانہ یا ڈرامہ رچا کر حملہ کرنے کی کوشش کرسکتا ہے، آپریشن بنیان المرصوص کے بعد سے ہم ہائی الرٹ ہیں، تمام سفارتی آپشنزاستعمال کریں گے
اسلام آباد(آئی این پی )وزیر دفاع خواجہ آصف نے انکشاف کیا ہے افغان طالبان نے 10 ارب روپے قرض مانگا تھا، گارنٹی دیتے کہ سرحد پار دہشت گردی نہیں ہوگی تو پیسے دے دیتے، ان کا کوئی اعتبار نہیں، عندیہ ملا ہے ایران، ترک، قطری بھائی امن کی ایک اور کوشش چاہتے ہیں، دِلی اور کابل میں دہشت گردی ہمارے مفاد میں نہیں، اگر حملہ ہوا تو خالی نہیں جانے دیں گے،انہوں نے کہا دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد افغانستان میں کارروائی کرسکتے ہیں‘پی ٹی آئی کہتی ہے طالبان کیساتھ کھڑے ہیں، یہ شہدا کے جنازوں میں بھی نہیں آتے،عدلیہ نے بھٹو کو پھانسی دی آئین کا قتل عام کیا، ادارہ اپنی تاریخ یاد رکھے، کوئی ادارہ عدلیہ کے اختیارات نہیں لے رہا ہے، اس پر اعتراضات ہیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ٹی وی چینلز سے گفتگو اور ٹوئٹ میں کیا ۔وزیردفاع نے کہا کہ پاکستان نہ بھارت اور نہ افغانستان سے جنگ چاہتا ہے، معاشی گرہوں کو آہستہ آہستہ کھول رہے ہیں، چاہے پہلگام، دلی ہو یا کابل میں دہشت گردی ہمارے مفاد میں نہیں، اگر حملہ ہوا تو خالی نہیں جانے دیں گے۔خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کوئی ملٹری ایڈونچر شروع نہیں کرے گا، بھارت، افغانستان اور بین الاقوامی کمیونٹی کو بھی یقین دلاتا ہوں لیکن اگر ہم پر حملہ ہوا تو اسی انداز میں جواب دیں گے، بھارت کوئی نہ کوئی بہانہ یا ڈرامہ رچا کر حملہ کرنے کی کوشش کرسکتا ہے، آپریشن بنیان المرصوص کے بعد سے ہم ہائی الرٹ ہیں۔وزیر دفاع کا کا کہنا تھا کہ ہم تمام سفارتی آپشنزاستعمال کریں گے، جو 2 واقعات ہوئے ہیں تو پاکستان جواب دینے پر مجبور ہوگا۔