وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران تین اہم موضوعات پر بات کی جائے گی: دہشت گردی، کشمیر اور پانی کا مسئلہ۔
دہشت گردی:
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف 25 سال سے جنگ لڑ رہا ہے اور اس نے اس جنگ میں بے پناہ نقصان اٹھایا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا اب خود فیصلہ کرے کہ دہشت گردی کے بارے میں پاکستان کی جدوجہد کو تسلیم کیا جائے۔ انہوں نے بھارت پر الزام عائد کیا کہ بھارت خود دہشت گردی کی پشت پناہی کرتا ہے اور اس کے خلاف ثبوت کینیڈا اور امریکا میں بھی موجود ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ دہشت گردی کے الزامات کا سامنا کیا ہے، حالانکہ یہ دہشت گردی کی کارروائیاں بھارت کی سرپرستی میں کی گئی ہیں۔
کشمیر کا مسئلہ:
خواجہ آصف نے کشمیر کو مذاکرات کا ایک اہم حصہ قرار دیا اور کہا کہ اس مسئلے پر بھی بات کی جائے گی۔ پاکستان کا موقف ہے کہ کشمیر کا مسئلہ عالمی سطح پر حل ہونے کی ضرورت ہے اور بھارت کے ساتھ اس پر مذاکرات ضروری ہیں۔
پانی کا مسئلہ:
پانی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کو چھیڑنے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت پانی کے حوالے سے پاکستان کے حقوق محفوظ ہیں اور اس معاہدے کو کسی صورت میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی پر پارلیمنٹ میں اور باہر شدید تنقید ہو رہی ہے، اور ان کے دن گن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے اپنی تقریروں میں چیزوں کو سمیٹنے کی کوشش کی ہے، لیکن اب وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے اور عوام ہی فیصلہ کریں گے۔آخر میں، وزیر دفاع نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ جب مذاکرات کا آغاز ہو، تو معاہدے کی شقوں کے مطابق بات چیت کی جانی چاہیے، کیونکہ بھارت کی طرف سے دہشت گردی کی کارروائیاں بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم کی جا چکی ہیں۔