ایران کے 100 سے زائد ڈرون حملے، اسرائیل کا ناکام بنانے کا دعویٰ

ایران کے 100 سے زائد ڈرون حملے، اسرائیل کا ناکام بنانے کا دعویٰ

اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے داغے گئے تمام ڈرونز کو ہدف تک پہنچنے سے قبل ہی تباہ کر دیا ہے۔

 اسرائیلی فوج کے مطابق ایران نے جوابی کارروائی کے طور پر 100 سے زائد ڈرونز اسرائیلی حدود میں بھیجے تھے، تاہم جدید دفاعی نظام کے ذریعے تمام حملوں کو ناکام بنا دیا گیا۔اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اب شہریوں کو مزید شیلٹرز کے قریب رہنے کی ضرورت نہیں ہے، خطرہ فی الحال ٹل گیا ہے۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ ایران کے ڈرون حملوں سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ایرانی حملے اسرائیل کی اُس فضائی کارروائی کے جواب میں کیے گئے ہیں جو ایران کے مختلف علاقوں میں انجام دی گئی تھی۔ ان حملوں میں ایران کی عسکری اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ایرانی ذرائع کے مطابق ان حملوں میں چیف آف آرمی اسٹاف، پاسداران انقلاب کے سینئر افسران اور چھ ایٹمی سائنسدان شہید ہوئے۔ایران نے حملوں کے بعد اسرائیل کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ صیہونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

 ایرانی حکام کے مطابق یہ حملے قومی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی تھے، جن کا جواب دینا ناگزیر ہو چکا تھا۔ادھر اسرائیل نے بھی ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی کے پیش نظر ملک بھر میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا تھا۔ فضائی دفاعی نظام کو فعال رکھا گیا، اور شہریوں کو پناہ گاہوں میں رہنے کی ہدایت دی گئی تھی۔دونوں ممالک کی اس کشیدہ صورتحال نے پورے مشرق وسطیٰ کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سمیت کئی عالمی رہنماؤں نے فریقین سے تحمل اور تصادم سے گریز کی اپیل کی ہے۔