بھارتی آرمی چیف کا پاکستان پر بے بنیاد الزامات کا سلسلہ جاری، دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش

بھارتی آرمی چیف کا پاکستان پر بے بنیاد الزامات کا سلسلہ جاری، دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش

بھارتی آرمی چیف جنرل اوپندرا دویدی نے ایک بار پھر اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے جھوٹ پر مبنی بیانات دیے ہیں۔

 بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق جنرل دویدی نے نئی دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مقبوضہ جموں کشمیر میں کشمیری حریت پسندوں کو پاکستانی قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ وادی میں حالات مکمل کنٹرول میں ہیں۔

کشمیریوں کی تحریکِ آزادی پر بے بنیاد الزامات بھارتی آرمی چیف کے دعوے حقائق کے برعکس ہیں، کیونکہ بھارت کی 10 لاکھ سے زائد فوج اور پیرا ملٹری فورسز کی موجودگی کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں روزانہ گھر گھر تلاشی کے دوران کشمیری نوجوانوں کی ہلاکتیں جاری ہیں۔ جنرل دویدی نے کشمیری حریت پسندوں کو دہشت گرد قرار دے کر ان کی آزادی کی جدوجہد کو بدنام کرنے کی کوشش کی، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کشمیری عوام بھارتی مظالم کے خلاف برسرِپیکار ہیں۔

لائن آف کنٹرول اور چین کے ساتھ صورتحال پریس کانفرنس کے دوران جنرل دویدی نے اعتراف کیا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول (LAC) پر بھارت اور چین کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے۔ انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ چین کے ساتھ صورتحال جوں کی توں ہے، جس سے بھارتی حکومت کی سفارتی اور عسکری ناکامیوں کا پردہ چاک ہوتا ہے۔

جھوٹ پر مبنی عالمی بیانیہ بھارتی آرمی چیف نے اپنی پریس کانفرنس میں دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرتے ہوئے کئی ممالک میں بھارتی دہشت گردی کو چھپانے کی کوشش کی، لیکن بھارت کے اقدامات خود اس کے بیانات کی نفی کرتے ہیں۔ ایل او سی پر بھاری اسلحے کے باوجود بھارتی فوج نام نہاد دراندازی کو روکنے میں ناکام نظر آتی ہے۔

پاکستان پر الزامات اور حقیقت بھارتی آرمی چیف کے الزامات عالمی سطح پر بھارتی ناکامیوں کو چھپانے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کشمیری عوام کی تحریکِ آزادی بھارتی مظالم کے باوجود مزید مضبوط ہو رہی ہے۔