2024 کے دوران 289اغواء کے کیسز رپورٹ ہوئے، 64 عدالتوں میں زیر سماعت ہیں،آئی جی سندھ کی بریفنگ
کمیٹی برائے انسانی حقوق میں بچوں کے حقوق اور معذور افراد کے تحفظ کے حوالے سے بلز آئندہ اجلاس تک موخر
اسلام آباد (آئی این پی ) سینیٹ فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق میں بچوں کے حقوق اور معذور افراد کے تحفظ کے حوالے سے بلز آئندہ اجلاس تک موخرکردیئے گئے،کمیٹی نے ملک بھر میں بچوں کے اغواء، قتل اور چائلڈ ٹریفکنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات پرشدید تحفظات اور تشویش کا اظہار کیاہے۔سینیٹ فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔اجلاس میں بچوں اور معذور افراد کے حقوق، اقلیتوں کے تحفظ اور ملک میں بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام سے متعلق اہم قانون سازی اور انتظامی امور کے علاوہ نیشنل کمیشن ان رائٹس آف چائلڈز کے کام کے طریقہ کار، کارکردگی،فنگشنز اور بچوں کے خلاف ہونے و الے جرائم کی روک تھام کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔بچوں کے حقوق اور معذور افراد کے تحفظ کے حوالے سے بلز آئندہ اجلاس تک موخرکردیئے گئے۔ سینیٹر ڈاکٹر زرقہ تیمور سہروردی نے کمیٹی اجلاس میں آن لائن شرکت کرتے ہوئے درخواست کی کہ وہ پہلے چیئرپرسن نیشنل کمیشن ان رائٹس آف چائلڈز سے مشاورت کر کے کمیٹی کو آگاہ کریں گی جس پر چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے دونوں بلز آئندہ اجلاس تک موخر کر دیئے۔ اجلاس میں ملک بھر میں بچوں کے اغواء، قتل اور چائلڈ ٹریفکنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات شدید تحفظات و تشویش کا اظہار کیا گیا۔چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر ثمینہ ممتا زہری نے کہا کہ ملک بھر میں بچوں کے اغواء، ریپ، چائلڈ ٹریفکنگ کے واقعات بڑھ رہے ہیں جو انتہائی تشویش کی بات ہے۔ متعلقہ ادارے مل کر ایسا لائحہ عمل اختیار کریں جس سے اس طرح کے واقعات کا تدارک یقینی ہو عوام کو تحفظ اور ریلیف فراہم کرنا ہم سب کا فرض ہے۔ آئی جی سندھ غلام نبی نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 2024کے دوران 289اغواء کے کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 269بچے بازیاب کرائے گئے جبکہ66کیسز کا چالان کیا گیا۔ 66کیسز کی انکوائری التوا ء کا شکار ہے ،جبکہ64کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔گھر سے بھاگنے والے بچوں کے کیسز کی تعداد266ہے،239بازیاب ہوئے،55کے چالان کیے گئے،57کی انکوائری چل رہی ہے جبکہ 55کیسز عدالتوں میں ہیں۔آئی جی سندھ نے کہا کہ مختلف اداروں کے ڈیٹا میں فرق پایا جاتا ہے، اور زینب الرٹ بل کے تحت کیس کے تین ماہ کے اندر ٹرائل مکمل ہونا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کیا کہ 2024میں کراچی میں 37بچے قتل ہوئے، جن میں سے 22 کیسز کے چالان ہوئے ۔ ہماری سزائوں کی شرح 25فیصد ہے جو پاکستان میں سب سے زیادہ ہے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ بچوں سے زیادتی کے 209کیسز درج کیے گئے جن میں سے 117بچے اور96بچیوں کے تھے۔فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں آئی پنجاب کی کمیٹی اجلاس میں عدم شرکت پر سخت برہمی کا اظہار کیا گیا۔چیئرپرسن کمیٹی نے پنجاب پولیس کی جانب سے ڈیٹا فراہم نہ کرنے بھی سخت برہمی کا اظہار کیا۔