بھارت کی لیجنڈری پلے بیک گلوکارہ آشا بھوسلے کے انتقال کے بعد ملک بھر میں گہرے رنج و غم کی فضا چھا گئی ہے۔ وہ 92 برس کی عمر میں ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں متعدد اعضا فیل ہونے کے باعث انتقال کر گئیں۔
خاندانی ذرائع کے مطابق ان کی آخری رسومات 13 اپریل 2026 کو ممبئی کے شیواجی پارک میں ادا کی گئیں، جہاں صرف قریبی اہلِ خانہ اور رشتہ دار شریک ہوئے۔ اس سے قبل ان کی رہائش گاہ پر مداحوں کو آخری دیدار کا موقع بھی فراہم کیا گیا، جہاں بڑی تعداد میں لوگ اپنے پسندیدہ فنکار کو الوداع کہنے کے لیے جمع ہوئے۔بریچ کینڈی اسپتال میں ان کے انتقال کے بعد بالی ووڈ انڈسٹری سمیت پورے بھارت میں سوگ کی فضا رہی۔ ان کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے فنکاروں، سیاستدانوں اور عوام کی بڑی تعداد نے ان کے گھر اور آخری رسومات میں شرکت کی۔اس موقع پر شاہ رخ خان سمیت متعدد نامور شخصیات نے اظہارِ افسوس کیا اور انہیں بھارتی موسیقی کی تاریخ کا ایک عظیم ستون قرار دیا۔
شاہ رخ خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ آشا بھوسلے کی آواز ہمیشہ بھارتی سنیما کا اہم حصہ رہے گی اور آنے والی نسلوں تک ان کی گائیکی یاد رکھی جائے گی۔تقریب میں بھارتی سیاستدانوں، بالی ووڈ اداکاروں، گلوکاروں اور کھیلوں کی شخصیات نے بھی شرکت کی اور مرحومہ کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ وزیراعلیٰ مہاراشٹرا اور دیگر اعلیٰ حکام بھی ان کے اہلِ خانہ سے تعزیت کے لیے پہنچے۔آشا بھوسلے کو بھارتی موسیقی کی تاریخ کی سب سے زیادہ ورسٹائل اور کامیاب گلوکاراؤں میں شمار کیا جاتا ہے، جنہوں نے کئی دہائیوں تک بالی ووڈ میں اپنی آواز کا جادو جگایا اور بے شمار لازوال گیت دیے۔