محمد ندیم بھٹی
پاکستان میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں روز بروز اضافہ ایک عام آدمی کے لئے زندگی کو مشکل سے مشکل تر بنا رہا ہے۔ کبھی سبزیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں تو کبھی دالیں اور گھی عوام کی پہنچ سے باہر ہو جاتے ہیں۔ مگر اس وقت سب سے بڑا مسئلہ برائلر مرغی کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہے۔ آج مارکیٹ میں برائلر مرغ
690 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے، جو ایک عام مزدور اور سفید پوش طبقے کے لئے ناقابل برداشت بوجھ ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں سی ایم صاحبہ بلکہ ایک ایسا المیہ ہے جس نے ہزاروں غریب گھرانوں کی روٹی روزی پر کاری ضرب لگائی ہے۔
یہ سوال اٹھتا ہے آخر ایسا کیوں ہے کہ برائلر مرغی کی قیمتیں ایک دن میں 100 سے 130 روپے بڑھ جاتی ہیں اور اگلے ہی دن پھر مزید اضافے کی خبریں آتی ہیں؟ کیا یہ سب کچھ مارکیٹ کے قدرتی اتار چڑھاؤ کا نتیجہ ہے یا اس کے پیچھے کوئی منظم مافیا کام کر رہا ہے؟ حقیقت یہ ہے عوام بخوبی جانتے ہیں برائلر مافیا پوری معیشت کو یرغمال بنائے بیٹھا ہے۔ جب چاھے ریٹ بڑھا دیا جاتا ہے اور جب چاھے ریٹ میں معمولی کمی دکھا کر عوام کو لولی پاپ دیا جاتا ہے۔
مرغی کی پیداواری لاگت اور مارکیٹ ریٹ کے درمیان فرق دیکھیں تو صاف ظاہر ھوتا ہے کہ یہ کھیل صرف منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کا ہے۔ کسان کو جب مرغی فروخت کرنی ھوتی ہے تو بروکر حضرات اپنی مرضی سے کم قیمت طے کر لیتے ہیں، لیکن مارکیٹ میں یہی مرغی کئی گنا زیادہ داموں پر بیچی جاتی ہے۔ یہ دوغلا نظام غریب کسان اور غریب صارف دونوں کا خون نچوڑ رھا ہے۔ سب سے زیادہ فائدہ وہ مڈل مین اور بڑے ڈیلرز اٹھا رھے ہیں جو منڈیوں پر قابض ہیں۔ یہی لوگ اصل میں برائلر مافیا ہیں جن کے آگے انتظامیہ بھی بے بس دکھائی دیتی ہے۔
جب ایک مزدور دن بھر محنت کے بعد 1500 روپے کماتا ہے اور اس کی فیملی کی روزانہ کی بنیادی ضرورت صرف خوراک پر ھی پورا خرچ ہو جاتا ہے تو وہ مرغی کے630 روپے فی کلو والے ریٹ کو کیسے برداشت کرے؟ یہی وجہ ہے ہزاروں گھرانوں میں اب مرغی کھانا خواب بن گیا ہے۔ جو چیز چند سال پہلے ایک عام دسترخوان کا حصہ سمجھی جاتی تھی، آج وہ امیر طبقے کی خوراک بن کر رہ گئی ہے۔ اس مہنگائی نے غریب اور امیر کے درمیان فرق کو مزید گہرا کر دیا ہے۔یہ کہنا بالکل غلط نہ ہے برائلر مافیا نے عوام کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ جب چاہیں سپلائی کم کر دی جاتی ہے اور جب چاہیں مصنوعی قلت پیدا کر کے ریٹ آسمان پر پہنچا دیے جاتے ہیں۔ انتظامیہ اور پرائس کنٹرول کمیٹیاں محض دکھاوے کے نوٹس لیتی ہیں لیکن عملی طور پر کچھ بھی نہیں ھوتا۔ روزانہ کی بنیاد پر نرخ نامے جاری کرنے کا عمل محض کاغذی کارروائی بن چکا ہے کیونکہ مارکیٹ میں ان نرخوں پر کوئی بھی چیز دستیاب نہیں ہوتی۔ قصائی اپنی مرضی کا ریٹ بتاتے ہیں اور خریدار مجبور ھو کر خریدنے پر تیار ھو
جاتا ہے۔
یہ صورتحال صرف لاھور، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، فیصل آباد یا کراچی جیسے بڑے شہروں تک محدود نہیں بلکہ ملک بھر کے چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں بھی یہی حال ہے۔ وہاں نہ پرائس کنٹرول کمیٹیاں فعال ہیں اور نہ ھی کسی کو عوام کے مسائل کی فکر ہے۔ عام دکاندار اور فروخت کنندہ منڈی کے نام پر اپنی مرضی کا ریٹ طے کر لیتے ہیں۔ کیا یہ سب کچھ اس بات کا ثبوت ہے مافیا کو حکومتی اداروں کی پشت پناھی حاصل ہے، ورنہ کوئی بھی عام شخص اتنی بڑی سطح پر لوٹ مار نہیں کر سکتا۔
اس وقت ضرورت اس امر کی ہے چیف منسٹر مریم نواز صاحبہ فوری طور پر ایکشن لیں۔ صرف بیانات دینے اور اجلاس کرنے سے مسئلہ حل نہیں ھو گا۔ پرائس کنٹرول میکنزم کو حقیقی معنوں میں نافذ کیا جائے۔ برائلر مرغی کی پیداواری لاگت کا تعین کر کے اس کے مطابق ایک معقول اور متوازن ریٹ مقرر کیا جائے۔ اس ریٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری پر قابو پانے کے لئے انسپکشن ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو روزانہ کی بنیاد پر مارکیٹوں میں چھاپے ماریں۔ صرف جرمانوں پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ ایسے عناصر کو جیل بھیجا جائے تاکہ دوسروں کے لئے عبرت کا نشان بن سکیں۔لیکن اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ صرف انتظامیہ یا کاغذی کارروائی سے کام نہیں چلے گا۔ چیف منسٹر کو چاہئے کہ وہ پیرا فورس کو خصوصی اختیارات کے ساتھ میدان میں اتاریں۔ پیرا فورس کو اگر منڈیوں، فارمز اور گوداموں پر اچانک چھاپے مارنے کا ٹاسک دیا جائے تو مافیا کی کمر ٹوٹ سکتی ہے۔ یہ فورس اپنی سختی اور برق رفتاری کے باعث جانی پہچانی جاتی ہے، اور اگر انہیں اس کام پر مامور کیا جائے تو ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے حوصلے پست ھو جائیں گے۔ برائلر مافیا کو صرف بھاری جرمانے نہیں بلکہ کڑی سزائیں ملنی چاہئیں تاکہ یہ سلسلہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو سکے۔
اگر حکومت نے اس مسئلے پر فوری توجہ نہ دی تو اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔ غریب عوام میں مایوسی اور اشتعال بڑھ رہا ہے۔ جب لوگوں کی بنیادی ضروریات ھی پوری نہ ھوں تو وہ حکومت پر اعتماد کیسے کریں گے؟ یہ مافیا صرف مرغی تک محدود نہیں، یہی عناصر آٹے، گھی، چینی گوشت اور سبزیوں کی قیمتوں میں بھی مصنوعی اضافہ کرتے ہیں۔ ان پر قابو پانا حکومت کے لئے ایک کڑا امتحان ہے۔ اگر حکومت اس مافیا کو لگام ڈالنے میں ناکام رھی تو عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ھو جائے گا۔
ایک اور اہم پہلو یہ بھی ہے ہماری خوراک کی پالیسی بالکل ناکام نظر آتی ہے۔ حکومت نے کبھی اس پر توجہ ہی نہیں دی کہ غریب عوام کو پروٹین اور صحت بخش خوراک کس طرح فراہم کی جا سکتی ہے۔ برائلر مافیا نے اپنی اجارہ داری قائم کر کے لوگوں کے لئے مرغی کو بھی ایک عیاشی بنا دیا ہے۔ اگر یہی حالات رھے تو آنے والے دنوں میں پاکستان میں غذائی قلت ایک بڑا بحران بن سکتی ہے۔
یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر کب تک غریب عوام مہنگائی کی چکی میں پس کر زندہ رہنے پر مجبور رہیں گے؟ کیا یہ حکومت کی ذمہ داری نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کو بنیادی اشیاء مناسب نرخوں پر فراہم کرے؟ دنیا کے مہذب معاشروں میں حکومتیں سبسڈی اور پرائس کنٹرول کے ذریعے عوام کو ریلیف دیتی ہیں، لیکن ہمارے ہاں صرف دعوے اور وعدے کیے جاتے ہیں۔ عوام کے لئے نہ کوئی مستقل پالیسی ہے اور نہ ہی کوئی عملی اقدام۔
اب وقت آ گیا ہے چیف منسٹر مریم نواز صاحبہ ذاتی دلچسپی لے کر اس مسئلے کو حل کریں اور عوام کا دل جیت لیں۔ برائلر مافیا کے خلاف ایک بھرپور آپریشن کیا جائے۔ پیرا فورس کے ذریعے ایسے عناصر کو گرفتار کر کے سخت سزائیں دی جائیں تاکہ عوام کو ریلیف ملے اور مافیا کی بدمعاشی کاخوف ختم ھو۔ اگر حکومت نے سنجیدہ قدم نہ اٹھایا تو یہ بحران مزید شدت اختیار کرے گا اور عوام کا حکومت پر اعتماد مکمل طور پر ختم ھو جائے گا۔ غریب عوام کے لئے انصاف کا تقاضا ہے انہیں بھی کم از کم خوراک مہنگائی کے شکنجے سے آزاد ملے۔
پاکستان کے عوام کسی آسائش کے طلبگار نہیں، وہ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ان کی بنیادی ضروریات زندگی ان کی پہنچ میں ھوں۔ برائلر مرغی جیسی عام خوراک جب 690 روپے کلو ھو جائے تو یہ صرف ایک ریٹ نہیں بلکہ ایک چیخ ہے، ایک احتجاج ہے جو ہر غریب گھر سے اٹھ رھا ہے۔ یہ آواز حکمرانوں تک پہنچنی چاہئے اور اگر حکمران یا ادارے بہرے بنے رھے تو تاریخ انہیں معاف نہیں کرے گی۔