یورپی یونین کا اسرائیلی آبادکاروں اور حماس رہنماؤں پر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ

یورپی یونین کا اسرائیلی آبادکاروں اور حماس رہنماؤں پر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ

یورپی یونین نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال سے متعلق ایک اہم اور سخت سیاسی فیصلہ کرتے ہوئے اسرائیلی آبادکاروں اور حماس کے بعض رہنماؤں پر باضابطہ پابندیاں عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

برسلز اجلاس میں فیصلہ
یہ فیصلہ برسلز میں منعقد ہونے والے یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں اتفاقِ رائے سے کیا گیا۔ یورپی سفارتکاروں کے مطابق یہ پابندیوں کا پیکج کئی ماہ سے زیر التوا تھا، جس کی بڑی وجہ رکن ممالک کے درمیان اختلافات تھے۔ابتدائی طور پر ہنگری کی حکومت اس اقدام کی مخالف تھی، تاہم سیاسی تبدیلی کے بعد رکاوٹ ختم ہوگئی اور معاملہ آگے بڑھ سکا۔

یورپی یونین کا مؤقف
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ Kaja Kallas نے کہا کہ اب مزید تاخیر کا وقت نہیں تھا اور انتہا پسندی و تشدد کے نتائج لازمی ہوں گے۔ ان کے مطابق یہ اقدام خطے میں بڑھتے ہوئے تشدد کے جواب میں ایک عملی قدم ہے۔

پابندیوں کا دائرہ
پابندیوں کے تحت:

مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف تشدد میں ملوث 3 اسرائیلی آبادکاروں
اور 4 آبادکار تنظیموں
کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم ان افراد اور تنظیموں کے نام فوری طور پر ظاہر نہیں کیے گئے۔

یورپی ممالک کا ردعمل
فرانس کے وزیر خارجہ Jean-Noël Barrot نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین نے ان عناصر کے خلاف کارروائی کی ہے جو مغربی کنارے میں پرتشدد آبادکاری کی حمایت کرتے ہیں۔

اسرائیلی ردعمل
اسرائیل نے اس فیصلے کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ نے مؤقف اپنایا کہ یورپی یونین نے سیاسی بنیادوں پر اسرائیلی شہریوں کو نشانہ بنایا ہے۔اسی طرح اسرائیلی وزیر قومی سلامتی Itamar Ben-Gvir نے بھی اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ آبادکاری کا عمل جاری رہے گا۔

حماس پر بھی پابندیاں
یورپی یونین نے صرف اسرائیلی آبادکاروں ہی نہیں بلکہ Hamas کی قیادت پر بھی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ کے مطابق یہ اقدام 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کی ذمہ داری کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

حماس کا ردعمل
حماس کے سینئر رہنما باسم نعیم نے اس فیصلے کو “سیاسی منافقت” اور “دوہرا معیار” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین مظلوم اور قابض کو ایک ہی نظر سے دیکھ رہی ہے۔