بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران، بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکار پرنام ساؤ کی گرفتاری ایک اہم مسئلہ بن گئی ہے۔
23 اپریل کو جب بھارت اور پاکستان کے درمیان سرحدی صورتحال کشیدہ تھی، پرنام ساؤ فیروز پور کے علاقے میں بی ایس ایف کی 24ویں بٹالین کے اہلکار کے طور پر ڈیوٹی پر موجود تھا اور مقامی کسانوں کو خطرناک علاقے سے نکالنے کی کوشش کرتے ہوئے بین الاقوامی سرحد عبور کر گیا۔ پاکستانی فوج نے اسے گرفتار کر لیا، اور اس کی تصویر آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی جاری کی۔بھارتی میڈیا کے مطابق پرنام ساؤ کی اہلیہ، 7 ماہ کی حاملہ راجانی ساؤ نے اپنے شوہر کی گرفتاری پر شدید افسوس کا اظہار کیا۔ وہ روتے ہوئے کہہ رہی تھیں کہ انہیں اپنے شوہر کی واپسی کی امید ہے اور اس امید کا اظہار کر رہی تھیں کہ سفارتی کوششیں ان کی واپسی میں مددگار ثابت ہوں گی۔ راجانی ساؤ نے بتایا کہ بی ایس ایف افسران نے ان سے کہا کہ وہ پرنام ساؤ کو گھر واپس لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایک جذباتی پیغام میں، راجانی ساؤ نے "آپریشن سندور" کا ذکر کرتے ہوئے کہا، "مجھے میرا سندور واپس دو"۔ اس بیان سے ان کی غم و غصے کی شدت اور اپنے شوہر کی غیر موجودگی کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔یہ واقعہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پیش آیا، اور اس کے بعد 7 مئی کو بھارت کے "آپریشن سندور" اور 10 مئی کو پاکستان کے "آپریشن بنیان مرصوص" کے بعد جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔ تاہم، پرنام ساؤ کی گرفتاری اور اس کی واپسی کا سوال اب بھی بھارتی عوام کے ذہنوں میں ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان اس نوعیت کے واقعات کے باوجود، دونوں ممالک کے درمیان امن کی کوششیں اور سفارتی تعلقات معمولی پیشرفت کے باوجود دشوار ہیں۔