عالمی طاقت اوراقتدار کی ہوس

 امجد علی
ایران اسرائیل امریکہ حالیہ جنگ   ائریل اٹیک، میزائل/ڈرون اٹیکس کے ساتھ جاری  ہے۔ تجزیہ نگاروں نے جنگ کے پیچھے بڑے بڑے خفیہ مقاصد  بیان کیے ہیں، جیسے لبنان سے حماس کا خاتمہ، عربوں کی آپسی لڑائی، پہلے انفراسٹرکچر کی بربادی پھر نئی ڈیویلپمنٹ پراجیکٹ کی مد میں وسائل امریکہ اور اس کی کمپنیوں کی طرف چینلائز کرنا وغیرہ وغیرہ۔ مگر بنیادی طور پر امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے کیے جانے والے حکم کے پیچھے بظاہر ریجیم چینج کا حدف تھا۔  مگر درپردہ یہ دو ملکوں کی نہیں صہونیوں کی وسائل پر اختیار کی جنگ ہے جو ایک عرصہ سے وقفے وقفے سے  چلتی چلی جا رہی ہے۔ ہر آنے والے دن بار جنگ کے عالمی پھیلاؤ کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے۔  

دسویں روز تک قریباً 2400 کے قریب انسانی جانیں لقمہ اجل بن چکی ہیں سیکڑوں حملوں میں  تیل کے ذخائر، فوجی اڈے اور حکومتی اور رفاعی عمارتیں بھی نشانہ بنائی گئیں۔  متعدد شہروں پر مسلسل اسرائیلی/امریکی متحدہ حملے کئے گئے۔ ہلاکتوں کے علاؤہ ہزاروں لوگ زخمی ہوئے، بے گھر ہوئے۔ بڑے پیمانے پر گھروں، اسپتالوں اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔ اس کے علاؤہ تہران میں آئیل ڈیپو میں لگی آگ سے ہونے والا ملٹیپل نقصان بھی شدید ہے۔ گو مغربی اتحاد فرنٹ پر امریکہ کے ساتھ یکجا نظر نہیں آ رہا مگر کھل کر انسانی بنیادوں پر اس ناجائز بلاجواز جنگ کی مخالفت بھی نہیں کر رہے۔ کہیں نہ کہیں وہ اسے اسرائیل کی جنگ سمجھتے ہیں۔ اسی طرح چین، روس، کوریا بظاہر ایران پر ہوتے ظلم کو روکنے آگے نہیں آئے نہ ہی ان کی کی طرف سے ایران کی مدد کا دو ٹوک مؤقف سامنے آیا ہے پھر بھی ان کی طرف سے کہیں نہ کہیں درپردہ ایران کو دفاعی ساز و سامان، اسلحہ اور دفاعی سسٹمز سے مدد کا امکان موجود ہے کیونکہ اس قدر مسلسل اور شدید کارپٹ بمباری میں بھی ایران مختصر سہی مگر مؤثر جوابی کاروائی کر رہا ہے درایں اثناء￿  کچھ غیر مصدقہ رپورٹس بھی ہیں کہ چین، روس اور کوریا نے ساتھ دینے کے عزم کا اعادہ  کیا ہے۔ کوریا کے اتحادی اعلامیہ کے پیچھے، ممکنہ طور پر جان بولٹن کے دئیے اشارے کے مطابق ایران کوریا سے ایٹمی معاہدے اور لاجسٹک موومنٹ کے بہت قریب ہے، معاہدہ بھی باعث اتحاد ہو سکتا ہے۔

 امریکہ کی جانب سے دوسرے ملکوں میں رجیم چینج کی مشق مسلسل جاری ہے اپنے کرایے کے ٹٹو بیٹھا کر وہیں سے خود حکومت کرنا اور مقبوضہ ملک کے شہریوں کے سارے وسائل کا رخ اپنے مفادات کی جانب موڑنا ہے۔  اگر تلخ نہ لگے تو یہ  سٹیٹ کی جانب سے  قوت اور خوف کے عنصر کو بروے کار لاتے سویلائزڈ بھتہ خوری اور ڈاکہ زنی کا نیو نارم ہے اور کمزور ممالک کو برائلر مرغی کی طرح پتہ بھی نہیں چلتا کب چھری چلی اور کون کھا گیا۔  

سلور سکرین بیانیہ ترقی، ڈویلپمنٹ، دفاعی سپورٹ، سبق سیکھانا یا اٹیک خواہ کچھ بھی ہو سکتا ہے مگر اہداف لوٹ مار ہی رہتے ہیں، وسائل کے بہاؤ کا کنٹرول اور رخ اپنے ہاتھ میں لینا ہوتا ہے۔ انہی مقاصد کی تکمیل کے لیے چھوٹے ممالک خصوصاً مسلم ریاستیں ان کا کشتہء￿  مشق رہتے ہیں۔ فلسطین، ویتنام ترکی، مصر، افغانستان، عراق یا کبھی ایران۔۔۔ کتنے ممالک ہیں جو ان کی آہنی دست درازیوں کی بدولت جاڑ/ اجاڑ اور ویرانیوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ کتنے انسان جان کی بازی ہار گئے کتنی فیملیز ان کی شطرنج کی چالوں اور  مہروں کے ہاتھوں تباہی و بربادی کا شکار ہو گئیں۔ 

اس میں دوسری رائے نہیں کہ جنگ آمنے سامنے دونوں ممالک کے بھاری جانی و مالی نقصان  کا باعث بنتی ہے۔ طاقت کے اندھے انسانی، اخلاقی اور قانونی ہر دائرے کو روندتے چلے جاتے ہیں۔ ایک طرف یہ جانوروں کے تحفظ کے عالمی دن مناتے ہیں اور دوسری جانب انسانی رگوں سے خون کی ندیاں جاری کرتے ہیں۔ غزہ ہو یا عراق/ایران کتنے ملک بشمول معصوم بچیوں کا سکول خونی ندیوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ عمومی حالات میں طاقتوروں کی زبانوں پر انسان پرستی کے ترانے اور دوران جنگ  یکلخت انکی زبانیں اور مشینیں آگ برساتی ہیں محبت  بربریت میں بدل جاتی ہے۔ جبکہ انسانیت انہی کے ہاتھوں سسک سسک کر دم توڑ رہی ہوتی ہے تب ان سوروں کے نہ ہاتھ کانپتے ہیں نہ آنکھ میں بال برابر بھی نرمی جھلکتی ہے۔ بلڈوز کیے گئے ممالک کا انفراسٹرکچر تباہ ہو جاتا ہے جس کی بحالی میں دھائیاں لگ جاتی ہیں اکثر ترقی میں سو سو سال پیچھے دھکیل دئیے جاتے ہیں۔ ایسے میں عالمی امن کے نمائندہ ادارے بھی قوت گویائی سے محروم نظر آتے ہیں۔ جیسے وہ آزاد و خود مختار بننے کی بجائے طاقتور کی راکھیل بن کے رہ جاتے ہیں۔ البتہ ایران کا سب سے بڑا، بھاری اور ناقابل تلافی نقصان ان کے روحانی سپریم لیڈر (انکی فیملی اور ہائی پروفائل رفقاء￿ ) کی شہادت ہیں۔ 

ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مختلف بین الاقوامی تجزیوں کے مطابق ایرانی فوجی تنصیبات، فضائی دفاعی نظام اور بعض سرکاری عمارتیں نشانہ بنیں۔ آئل کے ڈیپو اور ریفائنری زد میں آئی ہیں کئی فوجی اہلکار اور عام شہری ہلاک اور زخمی ہوئے، ایرانی معیشت پر پہلے سے موجود دباؤ میں مزید اضافہ ہوا اور تیل و توانائی کے شعبے سے متعلقہ مصنوعات بھی متاثر ہونے کی خبریں آ رہی ہیں۔۔ طاقتوروں کو یہ بھی سوچنا ہو گا کہ جنگ ایک ملک کے ساتھ ہے مگر ان اقدامات کی وجہ سے انسانیت کو میسر محدود وسائل مذید قلت اور تنگی کا شکار ہو رہے ہیں جس سے میدان جنگ سے دور آباد باقی انسانوں کی زندگیاں بھی ہو رہی ہیں۔

مختلف جریدوں کی رپورٹس کے مطابق جواب میں ایران کی جانب سے خطے میں امریکی اور سعودی مفادات کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے گئے۔ سعودی عریبیہ، دوبئی، یو اے ای، کویت، قطر اور بحرین میں موجود امریکی تنصیبات اور بعض مقامات پر میزائل یا ڈرون حملوں اور بڑے نقصان کی اطلاعات آئیں، بیشتر حملے ملٹی پل کیٹیگری کلسٹر بم لگے میزائل داغنے کی وجہ سے دفاعی نظاموں کے روکنے کے باوجود اپنے اہداف کو ہٹ & فائر کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ اسرائیل میں بھی راکٹ اور ڈرون حملوں کے سائرن بجتے رہے اور کافی جانی و مالی نقصان کی غیر مصدقہ رپورٹس سامنے آئیں۔ دونوں جانب سے نقصانات کے اعداد و شمار مختلف اور متضاد بتائے جا رہے ہیں، اس لیے حتمی اعداد اور تصویر ابھی واضح نہیں ہے۔

 امریکی اور اسرائیلی کارپٹ ایرئل بمباری نے ایرانی ٹاپ قیادت سمیت ملک کے ہر شہر کو نیست نابود کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ باقی ماندہ شہریوں کو یقین دہانی کی کوشش کی جاتی ہے کہ آپ کے گھر کے سربراہ انتہائی ظالم جاہل تھے ہم اپ کے مسیحا، خیرخواہ دنیا کے آخری سرحدوں سے آپ کی محبت میں تشریف لائے ہیں ہمارا ساتھ دیں ہم آپ کو حکومت سونپیں گے اور بدلے میں ہمیں کچھ نہیں چاہئے بس جو کہا جائے آپ صرف وہی کریں گے۔ تاریخ بھری پڑی ہے کہ امریکہ نہ دشمن نہ دوست کسی کو نہیں بخشتا صرف اسرائیلی مفاد کے لیے جنگیں مسلط کرتا ہے تباہی کر دیتا ہے۔

موجودہ صورت حال میں دونوں اطراف کے نقصان کے باوجود امریکہ اور اسرائیل ابھی تک اپنے اہداف کے حصول میں ناکام ہیں توقع تھی کہ دھائیوں سے امریکی پابندیوں میں جکڑے ایران میں سکت ہی نہیں کہ وہ ایک دن بھی مقابلہ کر سکے۔  اس کے باوجود ایران نے تمام تر نقصانات کے باوجود تازہ دم اور بلند حوصلے کے ساتھ قرارا جواب دے رہا ہے۔ جس سے اسرائیل اور امریکہ کا کافی نقصان بھی ہو رہا ہے صورت حال کو واضع کرنے کے لیے ایک مثال پیش ہے۔ اگر جنگل میں شیر اور بھیڑیا مل کر کمزور بھوکے لومڑ پر حملہ آور ہو جائیں سب جانتے ہیں وہ نہیں بچ پائے گا پھر بھی اپنی انرجی راکھ ہونے سے پہلے اگر کمزور لومڑ زخم کھاتے کھاتے شیر کی ٹانگ توڑ ڈالے تو یہ لومڑیوں کی تاریخ کا ایٹمی دھماکہ ہی متصور ہو گا۔ جو سردست ایرانی سپریم  لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور اس کے تربیت یافتہ اندھی سپر پاورز کے ساتھ کر رہے ہیں۔

ایران کی حالیہ حکمت عملی کو دیکھ کر یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ وہ محدود وسائل کے باوجود طویل المدتی جنگ کے لیے خود کو ڈھال چکا ہے۔ اس کی دفاعی اور جارحانہ پالیسی مہنگے اور روایتی ہتھیاروں کے بجائے کم لاگت سمارٹ وزڈم اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔ سستے مگر مؤثر ڈرون اور کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بڑے اور مہنگے اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں، جبکہ ان کو روکنے کے لیے United States کو کئی ملین ڈالر مالیت کے MIM-104 Patriot جیسے دفاعی میزائل استعمال کرنا پڑتے ہیں۔ اس عدم توازن نے جنگی معیشت کا ایک نیا پہلو نمایاں کیا ہے۔ اگر دفاعی نظام حرکت میں نہ آئے تو اربوں ڈالر کی تنصیبات چند لمحوں میں تباہ ہو سکتی ہیں، اور اگر حرکت میں آئے تو خود دفاع کی لاگت ہی جنگی نقصان بن جاتی ہے۔ اس طرح کے تصادم میں کمزور ملک کی افواج یا ملیشیاء￿  یا عوام چھاپہ مار ٹولوں کی شکل میں کاروائیوں 
 کی آپشن پر بھی کا سکتے ہیں جو یقیننا جنگ کے دورانیہ کو طویل کر دے گی۔ ایران نے اپنے گرد و نواح میں موجود عرب ریاستوں میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنا کر خطے میں فوری انٹیلی جنس اور برق رفتار جوابی کارروائی کی صلاحیت کو بھی چیلنج کیا ہے۔ Saudi Arabia، Qatar، Kuwait اور United Arab Emirates جیسے ممالک میں موجود امریکی تنصیبات پر دباؤ نے اسٹریٹیجک توازن کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ یہ صورتِ حال Israel اور امریکہ دونوں کے لیے نہایت حساس اور ناقابلِ قبول سمجھی جا رہی ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی سفارت کاری بظاہر خاموش ہے، لیکن عالمی سطح پر بیک شورش میں یہ بحث ضرور موجود ہے کہ طاقت کے بے مہار استعمال اور ریاستوں کی خودمختاری کو مسلسل چیلنج کرنے کا رویہ دیرپا استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اسے ڈائیلاگ کی ٹیبل پر لایا جائے۔ اکثر تھنکرز کے مطابق امریکی صدر امریکی عوام کی نہیں یہودی نیتن یاہو کی جنگ لڑ رہا ہے، امریکہ کی جگہ اسرائیل فرسٹ کا معاملہ چل رہا ہے اور نقصان امریکہ کا ہو رہا ہے۔

اہل نظر کے لیے یہ ایک عجیب اور دیدنی تضاد ہے کہ ایک انسان کے قتل کی بات ہو تو لواحقین کو اپنے زور بازو پر  بدلہ لینے کا اختیار نہیں دیا جاتا۔ ملکی قوانین اس کے ہاتھ باندھ دیتے ہیں۔ پھر برسوں مقدمات چلتے ہیں، لواحقین عدالتوں کی طرف ترسی اور بے بس نگاہوں سے دیکھتے رہتے ہیں۔ مگر جب بات ریاستوں کے درمیان تصادم کی ہو، جب بات اجتماعی انسانی قتل کی ہو، تو پھر عالمی عدالت انصاف و قوانین اس خونریزی کو روکنے کے لیے اسی شدت سے کیوں متحرک نظر نہیں آتے؟ وہاں ازخود نوٹس کیوں نہیں لیا جاتا؟ جو معاملات تنازعے کی بنیاد بن رہے ہوتے ہیں، انہیں عدالتی مراحل سے کیوں نہیں گزارا جاتا؟ انصاف کو اپنا راستہ اختیار کرنے کا موقع کیوں نہیں دیا جاتا؟
یہ وہ سوالات ہیں جن پر عالمی مقتدر حلقوں اور عدالتی اداروں کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے، شاید اسی غور و فکر سے انسانیت کو درندگی کے اس ماحول میں کچھ راستہ اور کچھ اصول میسر آ سکیں۔

اگرچہ آج ہم اس حقیقت کو تسلیم کر کرتے ہیں کہ اصل برتری جنگ میں نہیں بلکہ علم میں ہے۔ ٹیکنالوجی دراصل اسی علم کی مقتدر اولاد ہے، اور جدید دنیا میں کمانڈ اینڈ کنٹرول ہی اس کی اصل قوت ہے، نہ کہ محض جنگی طاقت۔ مگر افسوس کہ خود کو سپر پاور سمجھنے والی قوتیں، برتر اور وزڈم پر مبنی حکمت عملی اپنانے کے بجائے طاقت کے اندھے راستے کا انتخاب کر کے امن اقوام عالم کے لیے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہیں۔

سویلائزیشن کی سوچ رکھنے والے اور اس کے دعوے دار ممالک، نیز بین الاقوامی امن کے اداروں کو وقت ضائع کیے بغیر آگے آنا چاہیے۔ جنگ بندی کے لیے ہر سطح پر فوری اور مؤثر مذاکرات اور سفارتی اقدامات ناگزیر ہیں۔ اس سے پہلے کہ کسی مس کیلکولیشن کے نتیجے میں ایک ایٹمی دھماکے کو روکنے میں ناکامی، حملہ آور کو ایسے شدید دباؤ اور تناؤ میں مبتلا کر دے کہ وہ جاپان پر برسائی گئی آگ کی مثل ایک اور ایٹمی حملہ کر بیٹھے، ایک اور ملک کو نیست نابود کر دے، جو پوری انسانیت کے لیے نشان گھاٹ یا شام قیامت ثابت ہو سکتا ہے۔ عالمی برادری کے اشرافیہ سے درخواست ہے کہ وہ اپنی سفارت کاری کو بروئے کار لائیں اور انسانیت کو کسی اور اندھے سے حادثے سے محفوظ بنائیں۔