سانحہ سوات سے متعلق جاری ہونے والی انکوائری رپورٹ میں دل دہلا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 27 جون کو دریائے سوات میں سیلابی ریلے میں پھنس کر 13 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، جس کی بڑی وجوہات متعلقہ اداروں کی مجرمانہ غفلت اور غیر ذمہ داری قرار دی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ:پولیس دفعہ 144 کے نفاذ اور اس پر مؤثر عمل درآمد کرانے میں ناکام رہی۔ریسکیو 1122 سوات کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی افسر چھٹی پر تھے اور انہوں نے اپنے اعلیٰ حکام کو اس حوالے سے کوئی اطلاع نہیں دی۔
رپورٹ میں نہ صرف ذمہ داروں کی نشاندہی کی گئی ہے بلکہ ان کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ ان افسران میں شامل ہیں:
اُس وقت کے ڈی جی ریسکیو 1122
ڈپٹی کمشنر سوات
سابق ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریلیف
ریسکیو کے 2 غوطہ خور
ٹاؤن میونسپل افسر (ٹی ایم او) بابو زئی سوات
محکمہ آبپاشی کے گیج ریڈر
ریسکیو 1122 کنٹرول روم کے انچارج
ڈپٹی ڈائریکٹر نارتھ ایریگیشن
محکمہ آبپاشی کے دو دیگر افسران
حکام کا کہنا ہے کہ رپورٹ کی روشنی میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے ذمے داروں کے خلاف کارروائی کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر تمام متعلقہ محکموں کو احکامات جاری کر دیے گئے ہیں کہ وہ اپنے اپنے دائرہ اختیار میں غفلت کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف فوری محکمانہ کارروائی کریں۔یاد رہے کہ 27 جون 2025 کو دریائے سوات میں آنے والے اچانک سیلابی ریلے نے کئی افراد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ واقعے کے نتیجے میں 13 افراد جاں بحق ہو گئے تھے، جن میں بچے اور خواتین بھی شامل تھیں۔ اس سانحے کے بعد عوامی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا اور اعلیٰ سطحی انکوائری کا مطالبہ کیا گیا تھا۔سول سوسائٹی اور مقامی شہریوں نے انکوائری رپورٹ کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ محض سفارشات پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ تمام ذمہ داروں کو مثالی سزائیں دی جائیں تاکہ آئندہ ایسے المناک واقعات کو روکا جا سکے۔