پنجاب میں ایل پی جی سلنڈر حادثات: 4 سال میں 25 افراد جاں بحق، 286 زخمی

پنجاب میں ایل پی جی سلنڈر حادثات: 4 سال میں 25 افراد جاں بحق، 286 زخمی

سال 2022 سے 2025 کے دوران پنجاب بھر میں ایل پی جی سلنڈر پھٹنے اور آگ لگنے کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 25 افراد جاں بحق اور 286 افراد زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ان حادثات کے باعث درجنوں افراد مستقل جسمانی معذوری کا شکار ہو گئے۔

ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً چار برسوں میں صوبے بھر میں مجموعی طور پر 488 حادثات رپورٹ ہوئے۔ ان میں سے 44 زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد اسپتالوں سے ڈسچارج کر دیا گیا، جبکہ متعدد افراد کو طویل علاج کا سامنا کرنا پڑا۔اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ حادثات لاہور میں پیش آئے، جہاں 170 واقعات رپورٹ ہوئے۔ فیصل آباد 50 حادثات کے ساتھ دوسرے، راولپنڈی 38 حادثات کے ساتھ تیسرے اور گجرانوالہ 25 حادثات کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہا۔ اس کے برعکس حافظ آباد اور لودھراں پنجاب کے محفوظ ترین اضلاع رہے، جہاں اس عرصے کے دوران ایل پی جی سلنڈر پھٹنے یا آگ لگنے کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔تفصیلات کے مطابق ملتان میں 18 حادثات میں 8 افراد زخمی ہوئے، سرگودھا اور شیخوپورہ میں 19، 19 واقعات پیش آئے جن میں بالترتیب 23 اور 29 افراد زخمی جبکہ مجموعی طور پر 8 افراد جاں بحق ہوئے۔ گجرانوالہ میں 25 حادثات میں 7 افراد زخمی ہوئے۔ بہاولنگر میں 16 حادثات کے دوران 10 افراد زخمی ہوئے جبکہ بہاولپور میں 12 حادثات میں 3 افراد زخمی ہوئے۔

اسی طرح گجرات میں 12 حادثات میں 3 افراد زخمی اور ایک جاں بحق ہوا، اٹک میں 8 حادثات میں 2 افراد زخمی ہوئے، چکوال اور چنیوٹ میں 7، 7 واقعات رپورٹ ہوئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ڈیرہ غازی خان میں 10 واقعات میں 2 افراد زخمی، مظفرگڑھ میں 6 واقعات میں ایک شخص زخمی، مری میں 4 واقعات میں ایک اور میاںوالی میں 5 حادثات میں 2 افراد زخمی ہوئے۔دیگر اضلاع میں ٹوبہ ٹیک سنگھ اور وہاڑی میں دو، دو حادثات میں مجموعی طور پر 6 افراد زخمی ہوئے۔ منڈی بہاءالدین میں 7 حادثات میں 6 افراد زخمی ہوئے جبکہ جھنگ، جہلم اور قصور میں 4، 4 واقعات میں 2 افراد زخمی ہوئے۔ رحیم یار خان اور راجن پور میں 3، 3 واقعات رپورٹ ہوئے تاہم بروقت کارروائی سے آگ پر قابو پا لیا گیا۔

ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ زیادہ تر حادثات کی بنیادی وجہ ناقص اور غیر معیاری سلنڈرز ہیں۔ ان کے مطابق اوگرا کی معاونت سے لاہور، شیخوپورہ، گجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات اور ملتان میں غیر معیاری سلنڈر بنانے والوں کے خلاف کارروائیاں بھی کی گئیں، تاہم اس کے باوجود غیر معیاری سلنڈرز کی تیاری اور کھلے عام فروخت کا سلسلہ تاحال جاری ہے، جو عوام کی جان و مال کے لیے سنگین خطرہ بنا ہوا ہے۔