حافظہ فاریہ فاطمہ خان
باقی ادیان کے مقابلے میں اسلام دین فطرت اور کامل ترین مذہب ہے۔کوئی باشعوراسلام کی سچائی سے انکار نہیں کرسکتا۔ماں باپ اپنے بچوں کے اچھے نام رکھیں،یہ اسلام کادیا ہوا بہترین درس ہے۔اِسلام یہ بھی کہتا ہے ،مسلمان ایک دوسرے کوکسی برے نام سے نہ پکاریں اورایک دوسرے کانام نہ بگاڑیں ۔جومعبود برحق یہ چاہتا ہے اس کے بندے اپنے بچوں کے اچھے نام رکھیں یقینا اس کے اپنے اسماء الحسنیٰ بھی اس کے شایان شان ہیں ۔قرآن مجید فرقان حمید کی وساطت سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ہمیں اپنے جو نام بتائے ، ان میں اسم’’ خدا‘‘شامل نہیں ۔ان کے ساتھ ساتھ پاک پروردگار کے نناوے صفاتی نام ازبرکرنا بہشت میں جانے کاپروانہ ہے۔اگر’’اللہ پاک ‘‘ نے اپنی ذات اقدس کیلئے اسم’’ خدا‘‘پسند نہیں فرمایا توہم اسے اس نام سے پکارنے والے کون ہوتے ہیں۔
اگرحضرتِ انسان الفاظ کے چناؤ میں احتیاط سے کام نہ لے تو آہستہ آہستہ اس کے عقائد کی بنیاد کمزور ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ ظاہراً ایک نام لیکن درحقیقت وہ نام پورے ایمان، توحید اور عقائد کی بنیاد اور نمائندگی کر رہا ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں شاعر اوردانشور حضرات اللہ ربّ العزت کیلئے اسم ''خدا'' کازیادہ استعمال کرتے رہے ہیں، حالانکہ قرآنِ مجیدکی 6666مقدس آیات، تسبیحات’’سبحان اللہ ،الحمدللہ ،اللہ اکبر‘‘،عربی زبان کی دعائوں، احادیث نبوی ؐ ،اذان ،نماز ،درودوسلام،تعوذ اورتسمیہ میں اسم اللہ آتا ہے۔روایات میںانبیاء کرام سمیت صحا بہ کرام کے القابات ،سرورکونین حضرت محمد خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وبارک وسلم کالقب حبیب اللہ ،حضرت آدم ؑ کا لقب صفی اللہ، حضرت نوح ؑ کا لقب نجی اللہ،حضرت ابراہیم ؑ کا خلیل اللہ ،حضرت اسماعیل ؑ کاذبیح اللہ،حضرت موسیٰ ؑکاکلیم اللہ،حضرت ایوب ؑ کاصبیر اللہ ،حضرت عیسیٰ ؑ کا روح اللہ جبکہ صحابی کرام میں سے امیرالمومنین حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کااسد اللہ (اللہ کاشیر)،حضرت خالدبن ولیدرضی اللہ عنہ کا سیف اللہ (اللہ کی تلوار) اورحضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کالقب’’امین اللہ‘‘ ہے۔ قرآن مجید کی رو سے اللہ تعالیٰ کا ذاتی، صفاتی اور حقیقی نام صرف اور صرف ''اللہ'' ہے۔اللہ ربّ العزت مجھے کمی بیشی معاف فرمائے ،میری یہ تحریر درحقیقت اجتماعی اصلاح کیلئے ایک تحریک ہے ۔زمین وآسمان پراللہ تعالیٰ کا’’راج‘‘ اور ہر مخلوق اس کی’’ محتاج‘‘ ہے۔ قرآنِ مجیدفرقان حمید کی ابتدا سے ہم پریہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ،’’الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِین‘‘ (سورۃ الفاتحہ: 1) پورا قرآنِ مجید ایک ایسے اسم سے شروع ہوتا ہے جو کسی ترجمے کا یاوضاحت کا محتاج نہیں ۔ ا للہ وہ اسم مبارک ہے جو کسی اور کیلئے استعمال نہیں ہو سکتا۔اسم اللہ کی کوئی جمع نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ارشادفرماتے ہیں: ’’قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَد‘‘ ’’کہہ دو وہ اللہ ایک ہے۔‘‘ (سورۃ الاخلاص: 1)
اسم ''خدا'' عربی نہیں بلکہ فارسی زبان سے ما خوذ ہے، جس کے معنی ہیں’’خود آیا ہوا ‘‘۔ یہ اسم مختلف ادوار میں مختلف مذاہب کے پیروکاراپنے مختلف خداؤں کیلئے استعمال کرتے ر ہے ہیں۔اسم ''خدا'' اور اس جیسے الفاظ فارسی، ہندو، سکھ اور دیگر تہذیبوں میں بھی پائے جاتے ہیں اسلئے یہ اسم واحد اور منفرد نہیں ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں قرآن مجید کہتا ہے، ’’ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ‘‘،’’نہ وہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی سے پیدا ہوا‘‘۔ (سورۃ الاخلاص: 3) ’’خدا یعنی خود آیا ہوا‘‘جواسم ایسا مفہوم رکھتاہووہ مجھے اللہ ربّ العزت کے شایان شان نہیں لگتا ۔اگر ہم قرآنِ مجید فرقانِ حمید کا مطالعہ کریں تو یہ بات روش روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ قرآنِ مجید میں 2698 مرتبہ اسم ’’اللہ‘‘ آیا ہے، لیکن کسی بھی آیت میں اسم خدا کا استعمال نہیں ہوا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بارے میں قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتے ہیں:’’وَلِلّٰہِ الْأَسْمَائُ الْحُسْنَیٰ فَادْعُوہُ بِہَا‘‘ترجمہ ،’’اور ا للہ ہی کیلئے سب اچھے نام ہیں، پس اُس کو اُن ناموں سے پکارو‘‘۔ (سورۃ الاعراف: 180)۔یہ آیت ہمیں صاف اور واضح طور پر بتا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو انہی ناموں سے پکارا اور لکھا جائے جو اس نے اپنے بندوں کو خود بتائے اور ا پنی ذات اقدس کیلئے پسند فرمائے ہیں ۔سرورکونین حضرت محمدرسول اللہ خاتم الاانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وبارک وسلم کی حیات طیبہ ہم مسلمانوں کیلئے عمدہ نمونہ اورمشعل راہ ہے۔رسول اللہ خاتم الاانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وبارک وسلم اورصحابہ کرام نے ہمیشہ عبادات اوراسلامی موضوعات پر بات چیت کے دوران اسم ا للہ کا انتخاب اوراستعمال کیا۔سرورکونین اورسراپارحمت اپنے عہدنبوت میں مختلف مقتدرشخصیات کے نام جومکتوب روانہ فرماتے تھے ان پر لگائی جانیوالی مہرمبارک پر’’محمدرسول اللہ‘‘ کنندہ تھا۔ ہم نے کئی بار بعض پھلوں اور سبزیوں کے اندر اور بسا اوقات فطری طورپر درختوں کی شاخوں سے بنا اور قربانی کے جانوروں کے بدن پر اسم ''اللہ'' لکھا ہوادیکھاہے۔
حدیث نبوی ؐمیں آتا ہے:’’اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں، جو انہیں یاد کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔‘‘(صحیح بخاری)۔غور طلب بات یہ ہے کہ ان نناوے ناموں میں بھی اسم ''خدا'' نہیں آیا۔ اگر ہم نماز میں جان بوجھ کر کسی ایک لفظ میں بھی ردو بدل کر دیں تو نماز فاسد ہو سکتی ہے۔ تو پھراپنے عقیدے اور ایمان کی بنیاد میں کس طرح غفلت کرسکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:’’مَا لَکُمْ لَا تَرْجُونَ لِلّٰہِ وَقَارًا‘‘۔ترجمہ،’’تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم ا للہ کی عظمت کا لحاظ نہیں رکھتے‘‘۔ (سورۃ نوح: 13)۔اللہ ربّ العزت کی عظمت، رفعت اور جاہ و جلال کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اسے اس کے پسندیدہ ناموں سے لکھا اور پکارا جائے جو اس نے خود اپنی ذاتِ کامل کیلئے پسندفرمائے ہیں ۔جب ہم کسی سے محبت کرتے ہیں تو اُسے اُس کے پسندیدہ نام سے پکارتے ہیں۔ تو ذرا سوچیں: جس ربّ العزت نے ہمیں تخلیق کیا، ہمیں رزق دیا اور ہمیں ایمان کی دولت عطا ء فرمائی، کیا وہ اس بات کا زیادہ حق دار نہیں کہ ہم اُسے اُس کے پسندیدہ نام سے پکاریں۔صرف یہ کہہ دینا کہ ''ہماری نیت درست ہے'' کافی نہیں۔ نیت کے ساتھ ساتھ درست علم اور عمل بھی نہایت ضروری ہیں۔
حضرت عمرفاروقؓ کا قول ہے:’’ علم کے بغیر عبادت گمراہی ہے‘‘۔ ہمیں اپنی نجی مجالس ، درسگاہوں ، تحریروں اور تقریروں میں اسم خدا کی بجائے اسم ’’اللہ‘‘کااستعمال یقینی بناناہوگا۔ یہ تحریراورتحریک کسی کی دل آزاری نہیں صرف اصلاح کیلئے ایک دستک ہے۔ اگر رسول ا للہ خاتم الاانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وبارک وسلم نے اپنے ربّ کو ’’اللہ‘‘ پکارا ہے تو پھر ہمارا ’’اللہ‘‘ کیلئے اسم’’ خدا‘‘ کااستعمال ایک بڑاسوالیہ نشان ہے۔یادرکھیں قبر اورحشر میں ہمارا امتحان جس نصاب سے ہوگا وہ ’’فارسی‘‘ نہیں ’’عربی‘‘ زبان میں ہے۔ ’’اللہ‘‘کو اس کے پسندیدہ ناموں سے پکارنادرحقیقت ادب، توحید اور محبت الٰہی کے زمرے میں آتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی پاک اوربلندبارگاہ میں صمیم قلب سے دعا ہے وہ ہماری انفرادی واجتماعی اصلاح اور ہمیں درست فہم و فراست عطاء فرمائے۔ ہمارے الفاظ اورہماری عبادت کے انداز کو درست عقیدے کے مطابق ڈھال دے اور ہمیں صراطِ مستقیم پرچلنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین