معر وف خاتون سپورٹس پریزنٹرز میں شمار کی جانے والی سارہ بلوچ نے فنونِ لطیفہ کے پس منظر کے ساتھ اس میدان میں قدم رکھا
کامیابی کا سفر اداکاری، میزبانی اور ملک بھر کے سٹیڈیمز، رِنگز اور سپورٹس ایریاز تک پھیلا ہوا ہے‘پاکستان کی نمائندگی کرنا اعزاز سمجھتی ہیں
لاہور(رپورٹ:شاہ نواز خان)پاکستان کی ممتاز ترین خاتون سپورٹس پریزنٹرز میں شمار کی جانے والی سارہ بلوچ نے فنونِ لطیفہ کے پس منظر کے ساتھ اس میدان میں قدم رکھا۔ نیشنل کالج آف آرٹس سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز تفریحی صنعت سے کیا۔ ان کا سفر اداکاری، میزبانی اور پھر ملک بھر کے اسٹیڈیمز، رِنگز اور اسپورٹس ایریاز تک پھیلا۔ایک ایسا راستہ جس کا تصور کم لوگوں نے کیا تھا اور جس پر ان سے پہلے کوئی نہیں چلا تھا۔انہوں نے کرکٹ، گالف اور ٹیپ بال سمیت مختلف کھیلوں کی میزبانی کی، اور خاص طور پر پاکستان کی پہلی خاتون بنیں جنہوں نے بین الاقوامی پلیٹ فارم پر باکسنگ کی میزبانی کی۔ ان کی مہارت، اعتماد اور پیشے سے وابستگی نے انہیں ایک معتبر اور قابلِ احترام نام بنا دیا ہے۔وہ بھی ایک ایسے شعبے میں جو طویل عرصے تک مردوں کے غلبے میں رہا۔سارا بلوچ کی کہانی استقلال اور مسلسل ترقی کا عکس ہے۔ ہاسٹل کی زندگی سے لے کر اپنی پیشہ ورانہ شناخت قدم بہ قدم قائم کرنے تک انہوں نے کھیلوں سے اپنے شوق کو صحافت اور براڈکاسٹنگ کے ایک بامقصد کیریئر میں ڈھالا۔ وہ اس یقین پر کام کرتی ہیں کہ ان کا کردار صرف پیشہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر مقصد رکھتا ہے۔ پاکستان کی نمائندگی وقار کے ساتھ عالمی سطح پر کرنا، سوچ کے زاویوں کو بدلنا اور نوجوان خواتین کے لیے راستے ہموار کرنا جو اسپورٹس میڈیا میں قدم رکھنا چاہتی ہیں۔سیٹ پر ہوں یا میدان میں،سارا بلوچ ہر جگہ نیت، سچائی اور اپنے وطن کی کہانی میں مثبت کردار ادا کرنے کی خالص خواہش ساتھ لاتی ہیں۔