امن کا کٹھن سفر

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
کیونکہ تاریخ کاتجربہ یہی بتاتاہے کہ کبھی کبھی سرحدوں کے فاصلے سے زیادہ خطرناک دلوں کے فاصلے ہوتے ہیں۔یوں اگراس معاہدے کووقت کے تقاضوں کے مطابق مضبوط بنایا جائے،شفاف نگرانی کے اصولوں سے جوڑاجائے اوراعتمادسازی کے عمل کوفروغ دیاجائے تویہ محض ایک عارضی وقفہ نہیں بلکہ خطے میں ایک نئیامنیاتی ڈھانچے کی بنیادبن سکتا ہے۔
بین الاقوامی سفارت کاری کی دنیامیں اکثروہ فیصلے پسِ پردہ طے پاتے ہیں جن کااعلان بعدمیں تاریخ کے صفحات پرہوتاہے۔خاموش رابطے،غیررسمی ملاقاتیں اورخفیہ سفارتی راستے کئی مرتبہ وہ کام انجام دیتے ہیں جوکھلے مذاکرات کی میزپرممکن نہیں ہوتے۔یہی بیک ڈورچینلزدراصل سفارت کاری کے وہ خاموش دریاہیں جوبظاہرنگاہوں سے اوجھل رہتے ہیں،مگرعالمی سیاست کی بنجرزمین کو امکانات کی نمی فراہم کرتے ہیں۔اسلام آبادامن معاہدے کے پس منظرمیں بھی پاکستان کے علاوہ دیگرعلاقائی اورعالمی اثرورسوخ رکھنے والے ممالک کے سفارتی روابط اورپسِ پردہ کوششوں کواہمیت حاصل رہی۔یہ وہ سفارتی شطرنج ہے جس میں اصل چالیں اکثردکھائی نہیں دیتیں،مگران کے اثرات دوررس نتائج کی صورت میں ظاہرہوتے ہیں۔ان خاموش ذرائع کیذریعینہ صرف مختلف فریقوں کیدرمیان پیغامات کاتبادلہ ممکن ہوتاہے بلکہ بحران کے نازک لمحات میں فوری رابطہ،غلط فہمیوں 
کاازالہ اورمذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔درحقیقت بیک ڈورسفارت کاری کی اصل طاقت یہی ہے کہ یہ شورسے دوررہ کرکام کرتی ہے۔یہاں الفاظ کم اوراشارے زیادہ بولتے ہیں،اورکبھی کبھی ایک محتاط جملہ یاایک خاموش ملاقات وہ راستہ کھول دیتی ہے جوطویل رسمی مذاکرات بھی نہیں کھول پاتے۔یہی وجہ ہے کہ عالمی بحرانوں کے حل میں پسِ پردہ سفارت کاری کوہمیشہ ایک اہم اورمؤثرہتھیارسمجھاجاتاہے۔
جنگ کاتسلسل کبھی صرف میدانِ جنگ تک محدودنہیں رہتابلکہ اس کے ارتعاشات عالمی معیشت کے ہرگوشے تک پہنچتے ہیں۔اگر کشیدگی برقراررہتی ہے توتوانائی کی منڈیوں میں بے یقینی،تیل کی قیمتوں میں اتارچڑھا،تجارتی راستوں میں رکاوٹیں،اورسرمایہ کاری کے بہاؤمیں کمی جیسے عوامل عالمی اقتصادی نظام کوشدیددباؤمیں مبتلاکرسکتے ہیں۔معاشی دنیا ایک ایسے حساس توازن پرقائم ہے جہاں کسی ایک خطے کابحران پوری دنیاکی منڈیوں میں اضطراب پیداکرسکتاہے۔ایک چھوٹی سی چنگاری بھی عالمی بازاروں میں ایسی لہریں پیدا
کرسکتی ہے جن کے اثرات ہزاروں میل دورموجودمعیشتوں تک محسوس ہوتے ہیں۔توانائی کے بحران کیساتھ ساتھ کرنسیوں کی قدرمیں عدم استحکام،مہنگائی میں اضافہ،اورعوامی زندگی پربڑھتے ہوئے معاشی دباؤجنگ کے وہ خاموش اثرات ہیں جوتوپوں کی آوازسے کہیں زیادہ دیرتک سنائی دیتے ہیں۔درحقیقت جنگ صرف سرحدوں پرنہیں لڑی جاتی؛ اس کی قیمت منڈیوں،صنعتوں،روزگاراورعام انسان کی روزمرہ زندگی میں بھی ادا کی جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ عالمی امن محض سیاسی ضرورت نہیں بلکہ معاشی بقاکابھی بنیادی تقاضا ہے،کیونکہ دنیاکی معیشت کا جہازامن کی پرسکون لہروں میں ہی اپنے سفرکومحفوظ طریقے سے جاری رکھ سکتاہے۔
پاکستان کیلئے اسلام آبادامن معاہدہ محض ایک سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ ایک کٹھن آزمائش،ایک تاریخی موقع اورایک ذمہ داری بھی ہے۔ایک طرف پاکستان امن کے داعی اور ذمہ دارریاست کے طورپرعالمی سطح پراپناکردارمضبوط کرنے کی کوشش کررہاہے،تو دوسری جانب اسے داخلی سطح پرسیاسی کشمکش،معاشی دباؤ،سلامتی کے چیلنجزاورمختلف نوعیت کی آزمائشوں کاسامناہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں سفارت کاری کی کامیابی کاانحصارصرف بیرونی حکمتِ عملی پرنہیں بلکہ داخلی استحکام اورقومی یکجہتی پربھی ہوتا ہے۔اس معاہدے کی قیمت صرف سفارتی محنت،مذاکرات اورعالمی رابطوں تک محدودنہیں بلکہ اس کیلئیداخلی سطح پربھی کئی قربانیاں، محتاط فیصلے اورغیرمعمولی تدبردرکارہیں۔پاکستان کو ایک ایسے نازک توازن کوبرقراررکھناہے جہاں ہ قدم سوچ سمجھ کراٹھانا ضروری ہے،کیونکہ بین الاقوامی سیاست میں معمولی سی لغزش بھی بڑے نتائج کوجنم دے سکتی ہے۔یہ حقیقت فراموش نہیں کی جاسکتی کہ بیرونی محاذپرکامیابی اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب اندرونی صفیں مضبوط،متحداورپراعتماد ہوں۔ایک منتشر قوم عالمی میدان میں اپنی آوازمؤثر انداز میں بلندنہیں کرسکتی، جبکہ اتحاد،سیاسی بصیرت اورقومی اتفاقِ رائے کسی بھی سفارتی کوشش کومضبوط بنیادفراہم کرتے ہیں۔
آخرکاراسلام آبادامن معاہدہ صرف ایک سفارتی دستاویزنہیں بلکہ قوموں کی نیت،قیادت کی بصیرت اورانسانیت کیاجتماعی شعورکا امتحان ہے۔اگراسے اخلاص،حکمت،ذمہ داری اورامن کیاصولوں کیساتھ آگے بڑھایاگیاتویہ تاریخ کے صفحات میں ایک روشن باب کی حیثیت اختیارکرسکتاہے؛لیکن اگرمفادات،عدم اعتماداوروقتی سیاسی تقاضے اس پرغالب آ گئے تویہ بھی ان بے شمارمعاہدوں کی طرح ایک ادھوری امیدبن کررہ جائے گاجووقت کی گردمیں کہیں گم ہوجاتے ہیں۔
اختتامیہ کے طورپریہ کہاجاسکتاہے کہ اسلام آبادامن معاہدہ محض چندصفحات پرمشتمل ایک سفارتی دستاویزنہیں بلکہ ایک ایسی تاریخی داستان ہے جس میں امیداوراندیشہ،تدبر اور تضاد،سفارت کاری اورطاقت کی کشمکش،سب ایک ساتھ جلوہ گرہیں۔یہ معاہدہ ایک ایسے خطے میں امن کی کوشش کی علامت ہے جہاں دہائیوں سے بداعتمادی،تنازعات اور جغرافیائی سیاسی رقابتوں کیسائے موجود رہے ہیں۔یہاں ہرمعاہدہ صرف الفاظ کامجموعہ نہیں ہوتابلکہ اس کے پیچھے قوموں کے مفادات،عوام کی امیدیں،عالمی طاقتوں کی حکمتِ عملیاں اورآنے والی نسلوں کامستقبل وابستہ ہوتاہے۔
اسلام آبادامن معاہدہ اگرچہ ایک شمع کی مانندہے،مگرتاریخ گواہ ہے کہ شمع صرف روشن ہونے سے منزل تک نہیں پہنچاتی؛اسے طوفانی ہواں سے بچانے کیلئے مسلسل نگہداشت، بصیرت اورعزم کی ضرورت ہوتی ہے۔اس شمع کاایندھن صرف دستخط شدہ کاغذات نہیں بلکہ وہ اعتمادہے جوفریقین کے درمیان قائم ہوتاہے،وہ حکمت ہے جومشکل فیصلوں کی رہنمائی کرتی ہے،اوروہ مشترکہ ذمہ داری کااحساس ہے جووقتی مفادات سے بلندہوکرامن کے وسیع ترمقصدکوترجیح دیتاہے۔اس معاہدے کے تمام پہلوہمیں یہ یاددلاتے ہیں کہ امن کاراستہ کبھی آسان نہیں ہوتا۔جنگ بندی کے باوجوداصل امتحان اعتمادسازی کا ہوتاہے؛کیونکہ کمزوراعتمادمضبوط معاہدوں کوبھی متزلزل کرسکتاہے۔اسی لیے ضروری ہے کہ نگرانی کے مؤثرنظام،خلاف ورزیوں کے واضح طریق کار،مسلسل مذاکرات اورسفارتی رابطوں کوبرقراررکھاجائے،تاکہ کوئی بھی چھوٹااختلاف دوبارہ ایک بڑے تصادم کی صورت اختیارنہ کرسکے۔
اس معاہدے کے پس منظرمیں عالمی طاقتوں کاکرداربھی ایک اہم حقیقت ہے۔امریکاکی سفارتی پوزیشن،ایران کے محتاط بیانات،علاقائی طاقتوں کے مفادات،اورپاکستان سمیت دیگرممالک کی پسِ پردہ کوششیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ جدیددنیامیں کوئی بھی علاقائی بحران اب صرف ایک خطے تک محدودنہیں رہتا۔توانائی،تجارت،سلامتی اور عالمی معیشت ایک دوسرے سے اس قدرجڑچکے ہیں کہ ایک خطے کی بے چینی پوری دنیاکے معاشی اورسیاسی نظام کومتاثر کرسکتی ہے۔یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جاسکتی کہ کسی بھی امن معاہدے کی اصل طاقت صرف بیرونی ضمانتوں میں نہیں بلکہ فریقین کے داخلی ارادے میں پوشیدہ ہوتی ہے۔اگرسیاسی قیادتیں اپنے وقتی مفادات کووسیع ترقومی اورعلاقائی مفادات پرقربان کرنے کاحوصلہ دکھائیں،اگرعوامی سطح پرنفرت کی بجائیاعتمادکوفروغ دیاجائے،اوراگرسفارت کاری کوجنگ کے متبادل کے طورپرحقیقی اہمیت دی جائے تویہی معاہدہ ایک نئے دورکی بنیادبن سکتاہے۔
پاکستان کیلئے بھی یہ مرحلہ ایک تاریخی ذمہ داری کی حیثیت رکھتاہے۔امن کے عمل میں کرداراداکرناصرف سفارتی کامیابی نہیں بلکہ داخلی استحکام،قومی اتحاداورمتوازن خارجہ پالیسی کاتقاضابھی کرتاہے۔ایک مضبوط اورمتحدپاکستان ہی عالمی سطح پرمؤثرکردارادا کرسکتاہے،کیونکہ بیرونی میدان میں کامیابی کی بنیادہمیشہ اندرونی استحکام پرقائم ہوتی ہے۔بالآخر اسلام آبادامن معاہدہ ہمیں ایک بنیادی سبق دیتاہے کہ طاقت کااصل کمال جنگ جیتنے میں نہیں بلکہ امن قائم رکھنے میں ہے۔ تاریخ ان قوموں کوہمیشہ عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہے جو اپنی قوت کوتباہی کیلئے نہیں بلکہ تعمیر، نصاف اورانسانی بہبود کیلئے استعمال کرتی ہیں۔
اگریہ معاہدہ اخلاص،حکمت،شفافیت اورمشترکہ ذمہ داری کے اصولوں کے ساتھ آگے بڑھتاہے تویہ صرف ایک خطے کیلئے نہیں بلکہ پوری دنیاکیلئے امیدکی ایک روشن مثال بن سکتا ہے لیکن اگرعدم اعتماد،طاقت کی سیاست اوروقتی مفادات اس پرغالب آگئے تویہ بھی ان بے شمار معاہدوں کی طرح تاریخ کے اوراق میں ایک ایسی تحریربن جائے گاجسے کبھی امید کے ساتھ لکھاگیاتھا،مگرعمل کی کمی کے باعث وقت کی گردمیں کھو گئی۔
کیونکہ تاریخ کاسب سے بڑاسبق یہی ہے کہ امن صرف دستخطوں سے پیدانہیں ہوتا،بلکہ نیتوں،کرداراورمسلسل جدوجہدسے زندہ رہتا ہے۔اگرطاقت چراغ ہے توحکمت اس کی روشنی ہے،اوراگرامن منزل ہے تواعتمادوہ راستہ ہے جس کے بغیر کوئی قوم اس منزل تک نہیں پہنچ سکتی۔