امن کا کٹھن سفر

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
اسلام آبادکی فضاؤں میں جب تاریخ اپنے اوراق الٹتی ہے توبعض ایسے لمحے بھی ابھرتے ہیں جنہیں محض سفارتی واقعات کہناان کی قدرومنزلت کوکم کردیتاہے۔یہ وہ نادرساعتیں ہوتی ہیں جب قوموں کی تقدیرایوانِ اقتدارکی سخت وسنگین فضاسے نکل کرقلم،بصیرت اورتدبرکی نرم مگرمثرگرفت میں آجاتی ہے۔اسلام آبادامن معاہدہ بھی اسی نوع کی ایک درخشاں مثال ہے ۔ایک ایساباب جومحض سیاسی تاریخ تک محدودنہیں بلکہ فکری،تہذیبی اورعالمی شعورکی کشمکش کاآئینہ دارہے،جہاں الفاظ نے وقتی طورپراسلحہ کی گھن گرج کوخاموش کیا،مگرسوالات کی بازگشت اب بھی فضائے وقت میں معلق ہے۔
یہ معاہدہ اپنے اندرایک ایسی رمزیت رکھتاہے جس میں تحریرکے ساتھ ساتھ سکوت بھی معنی خیزہوجاتاہے۔سفارت کے چراغ جب اس شہرکے افق پرروشن ہوتے ہیں توان کی روشنی صرف دستاویزات کونہیں بلکہ امیدکے ان نازک ریشوں کوبھی جگمگاتی ہے جوایک بہترمستقبل کی نویددیتے ہیں۔یوں محسوس ہوتاہے کہ یہ عہدنامہ الفاظ کامحض مجموعہ نہیں بلکہ ایک فکری اورعملی بیانیہ ہے،جس کے ہرجملے میں تاریخ کی دھڑکن سنائی دیتی ہے اورہرسطرمیں آنے والے کل کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔اسی احساس کے تحت اب اس معاہدے کے مختلف پہلوؤں کواس اندازسے پیش کیاجاسکتاہے کہ اس کی معنویت میں کوئی تکرارنہ رہے اورہرنکتہ اپنی انفرادیت کے ساتھ ایک مکمل تصویرکی صورت اختیارکرلے ،ایسی تصویر جس میں سیاست کی سنجیدگی،تاریخ کابانکپن اورادب کی لطافت ایک ساتھ جلوہ گرہوجائیں۔
اسلام آبادامن معاہدہ بظاہرایک سادہ سفارتی دستاویزدکھائی دیتاہے،مگراس کے پس منظرمیں عالمی سیاست کی کئی پرتیں اورپیچیدہ حکمتِ عملیاں کارفرماہیں۔اس عہدنامے کابنیادی مقصد فوری جنگ بندی،قیدیوں کاباوقارتبادلہ،سرحدی کشیدگی میں تدریجی کمی،اور ایک ایسے جامع فریم ورک کی تشکیل تھاجس کے تحت فریقین مستقبل میں مذاکرات کے ذریعے اپنے دیرینہ اختلافات کوحل کرسکیں۔ اس میں انسانی بنیادوں پراقدامات،جیسے امدادی راہداریوں کی فراہمی،متاثرہ علاقوں تک رسائی،اوربین الاقوامی مبصرین کی نگرانی کوبھی کلیدی حیثیت دی گئی،تاکہ امن کے تقاضے محض سیاسی نہ رہیں بلکہ انسانی سطح پربھی محسوس کیے جا کیں۔
اسی کے ساتھ اس معاہدے کی ساخت میں ایک مربوط تدریج اور صیرت آمیزحکمتِ عملی شامل تھی۔ مرحلہ وار عتمادسازی کے اصول کے تحت فریقین کواپنی عسکری سرگرمیوں کومحدود کرنے،سرحدی علاقوں میں غیرفوجی زون قائم کرنے،اورکشیدگی کے مراکزکو وقتی طورپرغیرمؤثربنانے کی تجاویزدی گئیں۔مزیدبرآں،اقتصادی وتجارتی روابط کی بحالی کوبھی ایک مؤثرذریعہ امن تصورکیاگیا، اس یقین کے ساتھ کہ تجارت کی شاہراہیں اکثرتوپ وتفنگ کی گھن گرج کومدھم کردیتی ہیں۔یوں یہ معاہدہ محض جنگ کے تعطل کا اعلان نہیں بلکہ ایک ایسے تدریجی عمل کی بنیادتھاجس میں امن کی شمع کوطوفانی ہواؤں کے درمیان بھی روشن رکھنے کی کوشش کی گئی۔
امن کی جستجوکبھی سیدھی شاہراہ پرنہیں چلتی؛یہ اکثرایسے پرخارراستوں سے گزرتی ہے جہاں ہرقدم پرآزمائش منتظرہوتی ہے۔ اسلام آبادامن معاہدہ بھی انہی پیچیدہ مراحل سے گزر کروجودمیں آیا۔اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ باہمی اعتمادکافقدان تھا، جسے تاریخی مخاصمتوں،سیاسی مفادات کی کشمکش،عسکری اداروں کے تحفظات،اورعوامی جذبات کی شدت نے مزیدگہراکردیا۔یہ معاہدہ محض رسمی مذاکرات کانتیجہ نہ تھا،بلکہ اس کے پس پردہ طاقت کے وہ غیرمرئی دھارے بھی کارفرماتھے جوعالمی سیاست کی سمت متعین کرتے ہیں ۔انہی نازک حالات نے معاملے کواس نہج تک پہنچادیاکہ امریکی قیادت کواسرائیل کوسخت وارننگ دیناپڑی۔یہ وارننگ محض ایک رسمی سفارتی بیان نہ تھی،بلکہ اس میں ایک واضح پیغام پوشیدہ تھاکہ عالمی طاقتیں کسی بھی غیرمتوقع عسکری اقدام کوبرداشت کرنے کیلئے تیارنہیں۔اس تنبیہ میں جہاں طاقت کاعکس جھلکتاتھا،وہیں ایک گہری تشویش بھی نمایاں تھی کہ اگرمعاہدے کی روح مجروح ہوئی تواس کے اثرات صرف خطے تک محدودنہیں رہیں گے بلکہ عالمی امن بھی اس کی لپیٹ میں آسکتاہے۔یوں یہ لمحہ ایک ایسی کیفیت کامظہرتھا جہاں اخلاقی اپیل اورسیاسی مفاد،دونوں ایک ہی سانس میں ہم آہنگ ہوکربولتے محسوس ہوتے ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کی جانب سے پیش کیے گئے نکات کابنظرِغائرجائزہ لیاجائے توایک پہلوغیر معمولی اہمیت اختیارکرجاتاہے جوہری معاہدے کاعدم ذکر۔یہ خاموشی محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک گہری سفارتی حکمتِ عملی کی آئینہ دارمحسوس ہوتی ہے۔بظاہریہ سکوت ایک خلاکاتاثردیتاہے،مگردرحقیقت اسی میں معنی کی ایک پوری دنیاپوشیدہ ہے،جہاں الفاظ سے زیادہ ان کہی باتیں اپنااثر دکھاتی ہیں۔ایسامعلوم ہوتاہے کہ ایران نے شعوری طورپراپنے جوہری پروگرام کواس معاہدے کے دائرے سے خارج رکھا،تاکہ اسے ایک علیحدہ اور زیادہ مضبوط سفارتی محاذپرزیرِبحث لایاجاسکے۔اس کے ساتھ ساتھ پیش کردہ نکات میں علاقائی خودمختاری،بیرونی مداخلت کی نفی،اورداخلی استحکام کونمایاں حیثیت دی گئی گویا ترجیحات کاایک واضح نقشہ ترتیب دیاگیاہو۔اس تناظرمیں یہ معاہدہ ایران کیلئے ایک عارضی سفارتی پل کی حیثیت رکھتادکھائی دیتاہے،نہ کہ ایک ہمہ گیرحل؛ایک ایساپل جس کے ذریعے وہ اپنے بڑے مقاصدکی سمت پیش قدمی کرناچاہتاہے،بغیراس کے کہ اپنی اسٹریٹجک قوت کے بنیادی عناصرکوفوری سودے بازی کاحصہ بنائے۔
تاریخ کایہ اٹل سبق ہے کہ جب اعتماد کی بنیادیں کمزورپڑجائیں تومعاہدے اپنی معنویت کھوکرمحض کاغذی تحریروں میں ڈھل جاتے ہیں۔اسلام آبادامن معاہدہ بھی اسی کڑی آزمائش سے دوچارہوا،اوربالآخرجنگ کادوبارہ بھڑک اٹھنااس امرکی علامت بن گیاکہ کسی نہ کسی سطح پراس کی روح سے انحراف کیاگیامگربین الاقوامی سیاست کی فضامیںقصور کا تعین اکثردھندلارہتاہے،کیونکہ حقیقت بیانیوں کی گردمیں چھپ جاتی ہے اورہرفریق اپنے مقف کے حق میں دلائل کی ایک مضبوط فصیل قائم کرلیتاہے۔
بعض اوقات ایک معمولی واقعہ،جسے تدبراورتحمل سے سلجھایاجاسکتاتھا،حالات کیبہامیں شدت اختیارکرکے بڑے تصادم کاپیش خیمہ بن جاتاہے۔یہی وہ نازک مرحلہ ہوتاہے جہاں سفارت کاری کی نرمی پس منظرمیں چلی جاتی ہے اورعسکریت کی سختی نمایاں ہو جاتی ہے۔یوں محسوس ہوتاہے کہ تاریخ ایک بارپھراپنے آپ کودہرارہی ہے جہاں الفاظ کی قوت دم توڑدیتی ہے اورہتھیاروں کی زبان غالب آجاتی ہے،اورمعاہدے کی روشن سطوردھندلاکررہ جاتی ہیں۔یہ سوال اپنی جگہ نہایت اہم اوربنیادی حیثیت رکھتاہے کہ کیا اسلام آباد امن معاہدے میں خلاف ورزی کرنیوالے فریق کیلئے کوئی واضح اورمؤثرتعزیری نظام متعین کیاگیاتھا؟اگرایساکوئی سخت طریق کارموجودنہ ہوتوپھراس معاہدے کی پائیداری کا انحصارکن عوامل پرقائم رہے گا؟
بین الاقوامی سیاست کی تاریخ بتاتی ہے کہ اکثرمعاہدے محض قانونی دفعات کے سہارے نہیں چلتے بلکہ اخلاقی دباؤ،سفارتی تنہائی، عالمی ردِعمل اورممکنہ اقتصادی پابندیوں جیسے عوامل ان کے تحفظ کاذریعہ بنتے ہیں۔تاہم یہ نظام اپنی جگہ ایک کمزوری بھی رکھتا ہے،کیونکہ جب قومی مفادات،داخلی سیاسی دبایاطاقت کے تقاضے غالب آجائیں تومحض اخلاقی اپیلیں اورسفارتی دباؤہمیشہ کافی ثابت نہیں ہوتے۔اسلام آبادمعاہدے کی اصل آزمائش بھی یہی ہے کہ کیافریقین وقتی مفادات سے بلندہوکراس کی روح کااحترام کریں گے یاطاقت اور مصلحت کی کشمکش اسے کمزورکردے گی؟کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ امن کے معاہدے صرف دستخطوں سے مضبوط نہیں ہوتے بلکہ اعتماد،سیاسی بصیرت اورذمہ دارانہ طرزِعمل سے زندہ رہتے ہیں۔اگریہ عناصرکمزورپڑجائیں توبہترین تحریری معاہدے بھی وقت کی گردمیں دب سکتے ہیں،اوریہی وہ مقام ہے جہاں اس معاہدے کے مستقبل پرایک اہم سوالیہ نشان قائم ہوجاتاہے۔
بین الاقوامی معاہدے جامدپتھر کی لکیرنہیں ہوتے بلکہ بدلتے ہوئے حالات،نئے چیلنجزاورسیاسی حقائق کے مطابق ارتقاپذیررہتے ہیں۔ اگرفریقین اس معاہدے کومحض وقتی جنگ بندی کے بجائے ایک دیرپاامن کی بنیادبناناچاہتے ہیں تومستقبل میں اس میں مزیدمؤثراور واضح شرائط شامل کی جاسکتی ہیں۔ان ممکنہ اصلاحات میں سخت نگرانی کے جدیدنظام، ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے طریقہ کار،مشترکہ تحقیقاتی کمیٹیوں کاقیام،خلاف ورزی کی صورت میں واضح اورقابلِ عمل اقدامات،اورفوری ثالثی کے مؤثرمیکانزم شامل ہوسکتے ہیں، تاکہ کسی بھی اختلاف کودوبارہ تصادم میں تبدیل ہونے سے پہلے حل کیاجاسکے۔تاہم پائیدارامن صرف سرکاری معاہدوں اورسفارتی دفعات سے قائم نہیں ہوتابلکہ عوامی سطح پراعتماد سازی بھی اس کابنیادی ستون ہوتی ہے۔عوامی روابط، ثقافتی تبادلے اورانسانی سطح پرقربت کے فروغ سے وہ خلیج کم کی جاسکتی ہے جواکثرسیاسی تنازعات کو مزیدگہراکردیتی ہے۔ 
(جاری ہے)