دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے ایلون مسک کی سابقہ اہلیہ جسٹین ولسن نے ارب پتی کاروباری شخصیت کی نجی اور خاندانی زندگی سے متعلق نئے الزامات عائد کیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایلیکس گبنی کی آنے والی دستاویزی فلم ’مسک‘ میں جسٹین ولسن نے دعویٰ کیا ہے کہ ایلون مسک اپنے بچوں کی ماؤں کے لیے ’بریڈرز‘ کی اصطلاح استعمال کرتے تھے اور انہیں ایک دوسرے کا متبادل سمجھتے تھے۔جسٹین ولسن اور ایلون مسک کی شادی 2000 سے 2008 تک رہی، جبکہ دونوں کے 6 بچے ہیں۔ دستاویزی فلم میں جسٹین نے اپنی ازدواجی زندگی کے حوالے سے بھی دعویٰ کیا کہ شادی کے موقع پر مسک نے خود کو ان کے رشتے کا ’الفا‘ قرار دیا تھا۔جسٹین کے مطابق شادی کے دوران پیش آنے والے تجربات کے باعث وہ پہلی مرتبہ ’گیس لائٹنگ‘ کی اصطلاح سے واقف ہوئیں اور وقت کے ساتھ خود کو ناکافی محسوس کرنے لگی تھیں۔انہوں نے ایلون مسک اور ان کی ٹرانس جینڈر بیٹی ویوین کے تعلقات سے متعلق بھی الزامات عائد کیے۔ جسٹین کا دعویٰ ہے کہ ویوین کے اپنی شناخت کے حوالے سے سامنے آنے کے بعد مسک نے ان کی ہیلتھ انشورنس ختم کردی اور تعلقات بہتر بنانے کے لیے کوئی خاص کوشش نہیں کی۔
تاہم، ان کے مطابق مسک نے جسٹین کے ذریعے اپنی بیٹی تک یہ پیغام ضرور پہنچایا کہ وہ اس سے ’ہمیشہ محبت کریں گے‘۔دوسری جانب ایلون مسک نے دستاویزی فلم میں شرکت نہیں کی اور اسے ’ہِٹ پیس‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ ان کے وکیل ایلیکس اسپیرو نے فلم سازوں کے بعض دعوؤں پر قانونی کارروائی کی دھمکی بھی دی ہے، جبکہ پروڈکشن کمپنی کا مؤقف ہے کہ فلم حقائق کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ایلون مسک کی زندگی پر بنائی گئی دستاویزی فلم ’مسک‘ 16 اکتوبر کو ریلیز کی جائے گی۔واضح رہے کہ جسٹین ولسن کی جانب سے عائد کیے گئے ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔