امریکہ نے شام پر عائد پابندیاں عارضی طور پر ختم کردی ہیں، جس سے خطے میں ایک نئی انتظامی اور سفارتی پیش رفت کی نشاندہی ہوتی ہے۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب شامی صدر احمد الشرع وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے پہنچے، جس میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے، علاقائی امن، خطے کے حالات اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ملاقات کے بعد امریکی صدر نے شامی صدر کی تعریف کی اور کہا کہ وہ احمد الشرع کو پسند کرتے ہیں، اور امریکہ شام کی کامیابی کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا کیونکہ شام مشرق وسطیٰ کا اہم حصہ ہے۔ اس تعمیری ملاقات کے نتیجے میں امریکی محکمہ خزانہ نے اعلان کیا کہ شام پر عائد قیصر ایکٹ کے تحت پابندیاں چھ ماہ کے لیے معطل کردی گئی ہیں۔قیصر ایکٹ 2019 میں منظور کیا گیا تھا، جس کا مقصد بشار الاسد حکومت پر دباؤ ڈالنا اور شام کی معیشت کو کمزور کرنا تھا۔ اس قانون کے تحت امریکی کمپنیوں اور شہریوں کو شام کی حکومت یا فوج کے ساتھ کاروبار کرنے سے روکا گیا تھا، تاکہ بشار الاسد کی حکومت کو معاشی طور پر دباؤ میں رکھا جا سکے۔ تاہم، حالیہ فیصلے کے بعد ان پابندیوں کو عارضی طور پر اٹھا لیا گیا ہے، جس کا مقصد شام کی معیشت کی بحالی اور شہریوں کے لیے خوشحالی کے امکانات پیدا کرنا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق، پابندیوں کے خاتمے سے شام کی معیشت کی تعمیر میں مدد ملے گی اور شہریوں کے معیار زندگی میں بہتری آئے گی۔ اس سے قبل جون میں بھی امریکہ نے شام پر کچھ پابندیاں ہٹانے کا اعلان کیا تھا، لیکن قیصر ایکٹ کی بعض پابندیاں برقرار رہیں۔ اب یہ عارضی پابندی اٹھانے کا اقدام اس خطے میں جاری سفارتی کوششوں اور شام کی اقتصادی بحالی کی طرف ایک قدم سمجھا جا رہا ہے۔