ٹرمپ کا دورۂ چین: ایران جنگ، تیل اور تائیوان پر گفتگو متوقع

ٹرمپ کا دورۂ چین: ایران جنگ، تیل اور تائیوان پر گفتگو متوقع

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس ہفتے بدھ کی شام چین پہنچیں گے، جہاں وہ چینی صدر شی جن پنگ سے ایران، تجارت، عالمی سیکیورٹی اور دیگر اہم امور پر بات چیت کریں گے۔  
وائٹ ہاؤس کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے درمیان باضابطہ ملاقات جمعرات کو ہوگی، اور یہ دورہ جمعے کو ختم ہوگا۔  امریکا نے سال کے آخر میں شی جن پنگ کو بھی دورہ کرنے کی دعوت دی ہے۔  حکام کے مطابق، صدر ٹرمپ چین پر ایران سے تیل خریدنے اور تہران کو استعمال کی اشیاء فراہم کرنے کے معاملے پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔  عرب میڈیا کے مطابق، امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ چین ایران کی معیشت کو سہارا دے رہا ہے۔  واضح رہے کہ ایران نے امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے ردِ عمل میں آبنائے ہرمز بند کر دی تھی، جس سے عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہوئی اور ایشیائی معیشتوں پر دباؤ بڑھا۔  
چین نے ایران جنگ کے خاتمے کی خواہش ظاہر کی ہے اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی میزبانی بھی کی، تاہم بیجنگ نے ایران کے تیل پر امریکی پابندیوں کو یک طرفہ قرار دے کر تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔  امریکی حکام کا کہنا ہے کہ چین، روس کی حمایت، نایاب معدنیات، تجارت، اور تائیوان کے معاملے پر بھی بات چیت متوقع ہے، اور تائیوان کے حوالے سے کسی پالیسی میں تبدیلی کی کوئی توقع نہیں ہے۔